نئی دہلی: سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، جس کے سبب طلبہ کو بے حد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تقریباً 4 دن کے طویل انتظار کے بعد جب دوبارہ جانچ (ری-ایویلویشن) اور تصدیق کا پورٹل لانچ ہوا تو طلبہ کی خوشی کی انتہا نہ تھی، لیکن طلبہ کی خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ پورٹل لانچ ہونے کے کچھ ہی وقفے کے بعد ٹھپ پڑ گیا۔ اس سے طلبہ بے حد پریشانی میں مبتلا ہوئے اور ان کی سوشل میڈیا پر شکایات آنے لگیں۔ اس درمیان سی بی ایس ای نے ری-ایویلویشن پورٹل دوبارہ بحال ہونے کا دعویٰ کیا ہے، یعنی ری-ایویلویشن میں اب کسی طرح کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق بیشتر طلبہ کو تمام تفصیلات بھرنے کے بعد بھی اسکرین فریز ہونے کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی طلبہ نے سوشل میڈیا پر درپیش خرابیوں کی ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔ کچھ طلبہ نے پورٹل پر لاگ اِن کرنے سے متعلق شکایات بھی درج کرائی ہیں۔ ری-ایویلویشن پورٹل ٹھپ پڑنے کے سبب طلبہ اور والدین بے حد ناراض نظر آ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ طویل انتظار اور سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں کے باوجود سامنے آیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بورڈ کی جانب سے پورٹل لانچ کیے جانے کا کئی بار اعلان کیا گیا، اور آج جب طلبہ نے استعمال کرنا شروع کیا تو کچھ ہی دیر بعد انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مسئلے سے 4,04,319 سے زائد طلبہ متاثر ہوئے ہیں، جو اس برس تصدیق، جوابی کاپیوں کی فوٹو کاپی اور دوبارہ جانچ کے لیے درخواست دینے کے خواہش مند تھے۔
سی بی ایس ای کے نئے آن اسکرین مارکنگ سسٹم پر جاری تنازعہ کے درمیان مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اندازہ ظاہر کیا تھا کہ جانچ کی گئی جوابی کاپیوں کو دیکھنے والے تقریباً ہر 5 میں سے ایک طالب علم تصدیق یا دوبارہ جانچ کے لیے مطالبہ کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر 80 ہزار تک درخواستیں موصول ہو سکتی ہیں۔ بارہویں جماعت کے نتائج کے اعلان کے بعد سے ہی دوبارہ جانچ کا عمل جاری ہے۔ طلبہ اور والدین نے ادائیگی کے نظام میں خرابی، زائد فیس، رسید نہ ملنا، لاگ اِن کے مسائل اور اسکین شدہ جوابی کاپیوں کے نہیں ملنے جیسی شکایات کی ہیں۔ بعض امیدواروں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جوابی کاپیاں دھندلی اور نامکمل تھیں یا ان کے اصل جوابات سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔


















