لینڈ فار جاب گھوٹالہ سے متعلق سی بی آئی معاملے میں دہلی کے راؤز ایونیو کورٹ نے لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو کو یکم فروری سے 25 فروری کے درمیان باقاعدہ الزامات طے کیے جانے کے دوران عدالت میں ذاتی طور پر پیشی سے چھوٹ دے دی ہے۔ آج کی سماعت میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پیش ہوئے، جبکہ پاٹلی پتر سے آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ اور لالو پرساد کی بڑی بیٹی میسا بھارتی عدالت اس معاملے میں مزید ٹرائل اور استغاثہ کے ثبوتوں کی ریکارڈنگ کے لیے 9 مارچ سے روزانہ سماعت کرے گی۔ دراصل آر جے ڈی لیڈر لالو پرساد یاد، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو نے عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے سے چھوٹ کا مطالبہ کیا تھا، جسے عدالت نے قبول کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ 9 جنوری کو عدالت نے لالو خاندان سمیت مجموعی طور پر 41 ملزمان کے خلاف الزام عائد کیا تھا۔ اب ان تمام کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔ جبکہ عدالت نے 52 لوگوں کو اس معاملے میں بری کر دیا تھا۔اور ہیما یادو عدالت میں حاضر ہوئی تھیں، اس دوران دونوں نے الزامات سے انکار کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسی معاملے میں سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے راؤس ایونیو کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کے سامنے ایک عرضی دائر کی تھی۔ اس میں انہوں نے جج سے چاروں مقدمات ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جنہوں نے مبینہ آئی آر سی ٹی سی گھوٹالہ معاملے میں رابڑی دیوی اور ان کے اہل خانہ کے خلاف الزام طے کیے تھے۔ اپنی عرضی میں انہوں نے جج وشال گوگنے کے سامنے زیر التوا چاروں مقدموں کو ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس میں آئی آر سی ٹی سی گھوٹالہ معاملہ، مبینہ لینڈ فار جب معاملہ اور ان سے متعلق منی لانڈرنگ کی کارروائی شامل ہے۔ دراصل گزشتہ سال 13 اکتوبر کو راؤس ایونیو کورٹ کے اسپیشل جج وشال گوگنے نے آئی آر سی ٹی سی معاملہ میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو اور دیگر کے خلاف مجرمانہ الزامات طے کیے تھے۔












