چنئی: مدراس ہائی کورٹ کے مدورائی بنچ نے ایک مسلم بچی کی فلاح و بہبود کو سب سے اہم قرار دیتے ہوئے ایک ہندو جوڑے کو اس کا قانونی سرپرست مقرر کیا ہے ۔ جسٹس این آنند وینکٹیش اور جسٹس کے کے رادھا کرشنن پر مشتمل بنچ نے مدورائی کی ایک فیملی کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر دیوانی اپیل پر یہ فیصلہ سنایا، جس میں ہندو جوڑے کو قانونی سرپرست مقرر کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ بنچ نے اس حقیقت کو مدنظر رکھا کہ بچی پیدائش کے وقت سے ہی (تقریباً تین سال سے ) اس ہندو جوڑے کی نگرانی میں ہے اور وہ انہیں ہی اپنے والدین کے طور پر پہچانتی ہے ۔ بے اولاد جوڑے نے بچی کو پیدائش (2023) کے کچھ عرصہ بعد ہی گود لے لیا تھا۔
جوڑا بچی کی ماں کو پچھلے 10 سالوں سے جانتا تھا۔ شوہر کے انتقال کے بعد بچی کی ماں اپنی دو دیگر اولادوں کے ساتھ اس بچی کی پرورش میں مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ ایسی صورتحال میں انہوں نے اس جوڑے کو اپنی بچی گود دینے کی پیشکش کی تھی۔ گود لینے کے عمل کو قانونی شکل دینے کیلئے فیملی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ فیملی کورٹ نے یہ تو تسلیم کیا تھا کہ ایک غیر مسلم کو بھی سرپرست مقرر کیا جا سکتا ہے ، لیکن درخواست اس بنیاد پر مسترد کر دی تھی کہ شیر خوار ایک لڑکی ہے اور اسے گود لینے والا جوڑا اس کیلئے ’اجنبی‘ ہے ۔
















