’فلرش اسٹے ہوٹل‘ آگ کی لپٹوں میں گھرا ہوا تھا، چاروں طرف دھواں پھیلا تھا اور اندر پھنسے لوگ مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ حالات اتنے ہولناک تھے کہ آس پاس کھڑے لوگ بھی سہمے ہوئے تھے، لیکن اسی افراتفری کے درمیان کچھ بہادر لوگ آگے آئے۔ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ہوٹل کے اندر داخل ہو کر لوگوں کو باہر نکالا، زخمیوں کی مدد کی اور کئی زندگیاں بچائیں۔
اس اندوہناک حادثے میں 21 لوگوں کی دردناک موت ہو گئی اور کوئی لوگ اب بھی اسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا اگر ریاض الدین، عامر اور محمد وسیم جیسے بہادر لوگو وقت رہتے مدد کے لیے آگے نہ آتے۔ انہوں نے آگ کی لپٹوں کے سامنے بھی انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا۔ حادثے کے دوران ہوٹل کے سامنے گدوں کی دکان چلانے والے ریاض الدین منصوری اور ان کے بیٹے ارمان سب سے پہلے مدد کے لیے آگے آئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ کئی لوگ اوپری منزلوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور کھڑکیوں سے مدد کے لیے آواز لگا رہے ہیں، تو انہوں نے بلا تاخیر اپنی دکان سے درجنوں گدے اور رضائیاں نکال کر ہوٹل کے باہر بچھا دیں۔ گدوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر انہوں نے ایک عارضی حفاظتی ڈھال تیار کیا تاکہ لوگ اوپر سے کود کر اپنی جان بچا سکیں۔
ارمان کے مطابق لوگوں کی جان بچانے کے دوران انہیں خود بھی چوٹیں آئیں اور ان کی دکان کا تقریباً 2 لاکھ روپے کا سامان نقصان میں چلا گیا۔ ریاض الدین کا کہنا ہے کہ کسی کی جان بچانے کے سامنے یہ نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’’ہندو مسلمان سے اوپر انسانیت ہوتی ہے۔ ہم سب ہندوستانی ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔‘‘
مقامی نوجوان محمد افضل بتاتے ہیں کہ ہوٹل کے اندر حالات بے حد ہولناک تھے۔ دھوئیں کے باعث سانس لینا مشکل ہو رہا تھا، آنکھوں میں شدید جلن تھی اور سیڑھیاں تک گرم ہو چکی تھیں۔ کئی لوگ کمروں کے باہر بے ہوشی کی حالت میں پڑے ملے۔ ایسے میں نوجوانوں نے اپنے منہ پر کپڑا باندھا اور ایک ایک منزل پر جا کر پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالنا شروع کیا۔ کئی لوگوں کو کندھوں پر اٹھا کر نیچے لایا گیا۔ کچھ لوگ گھبراہٹ میں رو رہے تھے تو کچھ پوری طرح بے ہوش تھے۔
















