جنوبی دہلی کے کالکاجی کی جامع مسجد اور مدرسہ ملت الاسلام کو لے کر دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کی لیکن فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے بلکہ اگلی سماعت کی تاریخ مقرر کر دی۔ دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کو خبردار کیا کہ عدالتی پلیٹ فارم کا غلط استعمال نہ کریں۔دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران درخواست گزار کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ آپ ہر دوسرے دن ایسی درخواستیں دائر کر رہے ہیں، عدالت کے پلیٹ فارم کا اس طرح غلط استعمال نہ کریں۔ ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ آپ کو معاشرے میں ناجائز قبضہ کے طور پر صرف ایک ہی پریشانی نظر آتی ہے؟۔
پریت سنگھ سروہی نام کے ایک شخص کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ کالکاجی میں واقع جامع مسجد کا تقریباً ایک ہزار مربع میٹر حصہ سڑک اور فٹ پاتھ پر تجاوزات کرکے تعمیر کیا گیا ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تعمیر نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سرکاری اراضی پر بھی ناجائز قبضہ ہے۔
ان الزامات کے حوالے سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس پر بدھ کے روزسماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کو کڑی پھٹکار لگائی۔ دہلی ہائی کورٹ اس عرضی پراب 21 جنوری کو سماعت کرے گی۔ فی الحال عدالت نے معاملے کی سماعت کرنے کے دوران کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ انہیں معاشرے میں کوئی اور پریشانی نظر نہیں آتی۔ پینے کا پانی جیسے تمام مسائل ہیں، جن کے لیے آپ عدالت نہیں آتے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہمیں عدالت کے پلیٹ فارم کا اس طرح کے غلط استعمال کو روکنا ہوگا۔

















