مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں بدھ کی دیر شب ایک دردناک سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں کم از کم 16 مزدوروں کی جان چلی گئی۔ یہ حادثہ اندور-احمد آباد قومی شاہراہ پر چکلیا پھاٹا کے پاس تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ایک پِک اَپ کا ٹائر اچانک پھٹنے کے سبب پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ بے قابو ہو کر گاڑی ڈیوائیڈر کو توڑتے ہوئے دوسری طرف سے آ رہی ایک اسکارپیو سے ٹکرا گئی اور 4-3 بار پلٹ گئی۔
اس حادثہ میں 6 بچوں اور خواتین سمیت کم و بیش 16 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، جبکہ 13 دیگر سنگین طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ہلکی چوٹیں بھی آئی ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پِک اَپ میں تقریباً 50 مزدور سوار تھے، جو مزدوری کر کے لوٹ رہے تھے۔ حادثہ کی خبر ملتے ہی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تحقیقات شروع کر دی۔ کمشنر سدام کھاڑے نے بتایا کہ پِک اَپ میں صلاحیت سے زیادہ لوگ سوار تھے۔ سنگین طور سے زخمی 7 لوگوں کو بہتر علاج کے لیے اندور ریفر کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے۔ دیگر زخمیوں کا علاج مقامی اور پرائیویٹ اسپتالوں میں جاری ہے۔
اس دردناک حادثہ پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم قومی راحت فنڈ (پی ایم این آر ایف) سے مہلوکین کے کنبوں کو 2-2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی امداد دی جائے گی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے وزیر اعلیٰ نے مہلوکین کے کنبوں کو 4-4 لاکھ روپے اور سنگین زخمیوں کو 1-1 لاکھ روپے و دیگر زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی معاشی مدد دینے کی ہدایت دی ہے۔















