مغربی دہلی کے پالم علاقے میں آج (بدھ ) زبردست آگ لگ گئی۔ یہ واردات سادھ نگرعلاقے کے رام پھل چوک کے قریب ایک 5 منزلہ عمارت میں ہوئی۔ اس واقعے میں 3 بچوں سمیت 9 لوگوں کی دردناک موت ہو گئی۔ آگ اتنی بھیانک تھی کہ اسے بجھانے کے لیے 30 فائر انجنوں کو جائے وقوعہ پر بلانا پڑا۔ حادثے میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے عمارت سے مجموعی طور پر 10 لوگوں کو بچا لیا ہے۔ تاہم مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ڈپٹی فائر چیف ایس کے دوا نے بتایا کہ عمارت کو ٹھنڈا کرنے کا عمل جاری ہے۔ عمارت ٹھنڈی ہونے کے بعد ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ بتایا جارہا ہے کہ عمارت میں تقریباً 22 افراد پر مشتمل خاندان رہتا ہے جن میں سے 10 سے 12 افراد گوا گھومنے گئے ہوئے ہیں۔ اس وقت جو گھر میں تھے وہ آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ عمارت میں لگی آگ پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے لیکن آگ پوری طرح سے نہیں بجھی ہے۔ دھوئیں کا گہرا بادل مسلسل اٹھ رہا ہے۔ فائر فائٹرز عمارت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے مسلسل پانی کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں۔
جس عمارت میں آگ لگی ہے وہاں بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور مستقل ٹین کی شیڈ بنی ہوئی 4 منزلیں ہیں۔ بیسمنٹ، گراؤنڈ اور فرسٹ فلور پر کپڑوں اور کاسمیٹک کی دکانیں ہیں جبکہ دوسری اور تیسری منزل پر لوگ رہتے ہیں۔ آگ لگتے ہی دو لوگوں نے عمارت سے چھلانگ لگا دی تھی اس وجہ سے وہ بھی زخمی ہوگئے۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ آگ بجھانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
واضح رہے کہ مغربی دہلی کے دوارکا میں ہفتہ کو بھی ایک 4 منزلہ عمارت میں آگ لگ گئی تھی۔ کئی فائر فائٹرز کی کافی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ پولیس کے مطابق پالم کے رہنے والے آشیش بھاردواج کو جمعہ کے روز چین سے تقریباً 70-80 لاکھ روپے مالیت کے کپڑوں کی کھیپ ملی تھی، جسے گراؤنڈ فلور پارکنگ میں رکھا گیا تھا اور آگ لگنے سے پورا اسٹاک جل کر خاک ہو گیا تھا۔
















