کانگریس نے ایک ایکس پوسٹ میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی ایک سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اس امریکی کمیشن نے امریکی حکومت کو سفارش کی ہے کہ آر ایس ایس کے خلاف پابندی سمیت مختلف اقدامات پر غور کیا جائے۔
کانگریس کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی سفارش میں کہا ہے کہ آر ایس ایس مذہبی آزادی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن نے امریکی انتظامیہ کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ آر ایس ایس کے ارکان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے اور تنظیم سے وابستہ افراد کے اثاثوں کے خلاف کارروائی جیسے اقدامات پر غور کیا جائے۔
پارٹی نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سفارشات ایک امریکی سرکاری ادارے کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔ کانگریس کے مطابق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مذہبی آزادی سے متعلق خدشات کا ذکر کرتے ہوئے ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کانگریس نے اس معاملے کو تاریخی پس منظر سے بھی جوڑتے ہوئے یاد دلایا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی عائد کی تھی۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ اس وقت حکومت نے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا۔
اپنی پوسٹ میں کانگریس نے آر ایس ایس کے نظریاتی مؤقف پر بھی تنقید کی۔ پارٹی نے کہا کہ جو تنظیم آئین کی مخالفت کرتی ہے اور ملک کو منوسمرتی کے مطابق چلانے کی وکالت کرتی ہے وہ اس قوم کی یکجہتی اور بھائی چارے کے لیے زہر ہے۔ کانگریس کے مطابق ہندوستان کا آئینی ڈھانچہ اور جمہوری نظام ہی ملک کے اتحاد اور تنوع کی بنیاد ہے۔















