این سی ای آر ٹی کتاب تنازعہ معاملہ میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں 3 مصنفین پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز سنایا، جس میں میشیل ڈینینو، سپرنا دیواکر اور آلوک پرسنّا کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ کتاب کے متنازعہ باب سے وابستہ ان تینوں مصنفین سے فوری طور پر تعلق ختم کیا جائے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا ہے کہ میشیل ڈینینو، سپرنا دیواکر اور آلوک پرسنّا کمار کو کسی بھی ایسی ذمہ داری میں شامل نہ کیا جائے جس کی مالی معاونت سرکاری خزانے سے ہوتی ہو۔ قابل ذکر ہے کہ این سی ای آر ٹی نے آٹھویں جماعت کی کتاب میں عدالت میں بدعنوانی سے متعلق ایک باب شامل کیا تھا۔ جب یہ معاملہ عدالت تک پہنچا تو این سی ای آر ٹی نے کتابیں واپس منگوا لیں اور حال ہی میں اس معاملہ میں عوامی طور پر معافی بھی مانگی تھی۔
میشیل ڈینینو فرانس کے رہنے والے ہیں اور ہندوستانی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کے معروف محقق سمجھے جاتے ہیں۔ وہ کئی برسوں سے ہندوستان میں رہ کر تحقیق اور تصنیف کا کام کر رہے ہیں اور تعلیم و تاریخ کے میدان میں اہم خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ این سی ای آر ٹی کے سوشل سائنس نصاب پینل کے چیئرپرسن بھی رہ چکے ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں پدم شری اعزاز سے بھی نوازا ہے۔
سپرنا دیواکر ایک ماہر تعلیم کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ تعلیمی اصلاحات سے متعلق کئی پروگراموں میں سرگرم رہی ہیں اور نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے نفاذ سے متعلق ایک ٹاسک فورس کا بھی حصہ رہ چکی ہیں۔
آلوک پرسنّا کمار ایک معروف قانونی محقق ہیں۔ وہ پبلک پالیسی سے وابستہ تھنک ٹینک ’ودھی سینٹر فار لیگل پالیسی‘ کے شریک بانی ہیں اور قانون و پالیسی سے متعلق تحقیقی کام کرتے رہے ہیں۔















