امریکہ کے نیویارک شہر میں میئر ظہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ ’گریسی مینشن‘ کے باہر ایک مشتبہ دھماکہ خیز ڈیوائس پھینکنے کی کوشش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے 2 مشتبہ افراد کی شناخت کر انہیں گرفتار کر لیا۔ ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میئر ظہران ممدانی کی رہائش گاہ کے باہر 2 مخالف گروہوں کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا۔
نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ (این وائی پی ڈی) کے مطابق اس معاملے میں مجموعی طور پر 6 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب احتجاجی مظاہروں کے دوران صورت حال اچانک پرتشدد ہو گئی۔ آزاد خبر رساں ایجنسی ’فریڈم نیوز‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص نے ایک مشتبہ ڈیوائس دوسرے شخص کو دی، جس کے کچھ ہی دیر بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق برآمد کی گئی ڈیوائس شیشے کے ایک جار میں بنی ہوئی تھی، جسے کالے ٹیپ سے لپیٹا گیا تھا۔ اس کے اندر نٹ، بولٹ، اسکرو اور ایک فیوز لگا ہوا تھا۔ افسران کا کہنا ہے کہ فی الحال اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ یہ واقعی دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) تھا یا صرف خوف پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا نقلی ڈیوائس۔ این وائی پی ڈی کمشنر جیسکا ایس ٹش نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ عینی شاہدین نے ہوا میں اڑتے ہوئے اس ڈیوائس سے آگ اور دھواں نکلتے دیکھا۔ ان کے مطابق یہ ڈیوائس اڑتے ہوئے ایک بیریئر سے ٹکرائی اور پولیس افسران سے چند فٹ پہلے ہی بجھ گئی۔ یہ ڈیوائس سائز میں فٹبال سے تھوڑی چھوٹی تھی اور ماہرین اس کی جانچ کر رہے ہیں۔
















