نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سید سعادت اللہ حسینی نے ملک میں خواتین کی عزت و وقار کو درپیش خطرات ، بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور مغربی ایشیا میں شدید ہوتے فوجی تنازعے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آنے والے عالمی یومِ خواتین کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اگرچہ یہ دن خواتین کی کامیابیوں کے اعتراف اور حقوق کے حوالے سے منایا جاتا ہے لیکن خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی سلامتی، وقار اور مساوی مواقع کے لیے جدو جہد کا سفر ابھی باقی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے مطابق صرف 2022 میں بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4.45 لاکھ سے زیادہ معاملات درج کئے گئے ہیں۔ ان میں جنسی زیادتی، جنسی حملہ، گھریلو تشدد، ہراسانی، انسانی اسمگلنگ اور رشتہ داروں کی جانب سے ظلم و ستم جیسے واقعات شامل ہیں۔ اسی سال 31 ہزار سے زائد ریپ کے مقدمات درج ہوئے ، یعنی اوسطاً روزانہ جنسی زیادتیوں کے تقریباً 85 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو تشدد کے واقعات خواتین کے خلاف جرائم کے ایک تہائی سے زیادہ حصے پر مشتمل ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ تشدد اکثر گھروں اور خاندانوں کے اندر ہی رونما ہوتا ہے۔ انہوں نے گمشدہ خواتین کے مسئلے کو بھی نہایت تشویشناک قرار دیا۔ NCRB کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال بھارت میں لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کی جاتی ہے جن میں سے بڑی تعداد تلاش نہیں ہو پاتی۔خاص طور پر خواتین اور نوعمر لڑکیاں انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، استحصال اور جنسی تشدد کا زیادہ شکار بنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنسی استحصال کا مسئلہ دراصل معاشرے میں پائے جانے والے اخلاقی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔کمزور اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ منظم جنسی استحصال پر مبنی ایپسٹین اسمگلنگ نیٹ ورک نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کا ماننا ہے کہ خواتین کے وقار کے تحفظ کے لیے صرف سخت قوانین اور فوری انصاف ہی کافی نہیں بلکہ احترام اور جوابدہی پر مبنی اخلاقی و سماجی نظام کی بھی ضرورت ہے۔
معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026–27 کے بعد سامنے آنے والی صورت حال نے بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خدشات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بجٹ میں زیادہ تر توجہ سپلائی سائیڈ مراعات پر مرکوز رہی جبکہ آمدنی کی منصفانہ تقسیم، روزگار کی فراہمی اور سماجی تحفظ جیسے اہم پہلوؤں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ عالمی غیر یقینی صورت حال اور اندرونی معاشی دباؤ کے درمیان ترقی کے فوائد یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو رہے جبکہ عام گھرانے کم آمدنی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عدم تحفظ سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ پہلے ہی بھارت کی معاشی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور روپے پر بڑھتا ہوا دباؤ بھارت کے درآمدی اخراجات اور مہنگائی کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی ضرورت کا بیشترحصہ خام تیل کی درآمدات سے حاصل کرتا ہے، اس لیے ایسے جغرافیائی سیاسی جھٹکے براہ راست ایندھن کی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات اور مالیاتی دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس کے اثرات گھریلو بجٹ اور چھوٹے کاروباروں پر پڑنا ناگزیر ہے۔سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ لیبر مارکیٹ کی صورت حال بھی تشویشناک ہے۔ بھارت کی بڑی آبادی غیر رسمی اور غیر محفوظ ملازمتوں میں پھنسی ہوئی ہے۔ گِگ اکانومی کے تیزی سے پھیلاؤ نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے جہاں لاکھوں نوجوان گیگ اکنومی پر مبنی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں ۔ لیکن انہیں مناسب ملازمت کی ضمانت، منصفانہ اجرت یا سماجی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق گِگ ورکرز کی بڑی تعداد ماہانہ 15 ہزار روپے سے کم کماتی ہے اور انہیں بنیادی مزدور حقوق جیسے صحت بیمہ، پنشن یا قانونی تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔
مغربی ایشیا کی جنگ پر بات کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی طرف سےجاری مشترکہ فوجی کارروائیوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے قومی خودمختاری اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے جنوبی ایران کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ گرلز اسکول پر کئے گئے فضائی حملے کی شدید مذمت کی جس میں تقریباً 160 سے 170 طالبات جاں بحق ہوئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے اور فوجی حملوں نے شہریوں کے تحفظ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کو کسی بھی صورت میں وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہئے۔ ایران کو اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے تاہم صورت حال کو اس نہج تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ پڑوسی ممالک براہِ راست تصادم میں کھنچ جائیں اور مسلم دنیا میں مزید تقسیم پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو طویل اور تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے دانشمندی، احتیاط اور مؤثر سفارت کاری کی فوری ضرورت ہے۔انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پائیدار امن اور استحکام صرف مذاکرات، خودمختاری اور انصاف و بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔















