راجستھان میں سادھوی پریم بائیسا کی مشتبہ حالات میں ہوئی موت نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ اس دوران مقامی لوگوں، عقیدت مندوں اور انتظامیہ کے درمیان اس واقعہ کے حوالے سے مسلسل بحث ہو رہی ہے لیکن اب تک موت کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔ پولیس اسے قدرتی موت قرار دے کر تحقیقات کر رہی ہے جبکہ اہل خانہ اور حامی اسے مشتبہ قرار دے رہے ہیں۔ سادھوی پریم بائیسا کی موت کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ای آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔
جودھ پور کے پولیس کمشنر اوم پرکاش نے ’آج تک‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سادھوی پریم بائیسا کی موت کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ معاملے کی تمام ممکنہ زاویوں سے جانچ کی جا رہی ہے۔ وسرا اور پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی پولیس کو نہیں سونپی گئی ہے۔ اس معاملے میں سب سے بڑا سوال کمپاؤنڈردیوی سنگھ راج پروہت کے کردار کے حوالے سے اُٹھ رہا ہے جو اطلاعات کے مطابق سادھوی کے والد ویرم ناتھ کو پہلے سے جانتا تھا۔ ’آج تک‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ دیوی سنگھ راج پروہت نے سادھوی پریم بائیسا کو ایک نہیں بلکہ کئی انجیکشن لگائے، جس کے بعد ان کی حالت خراب ہونے لگی۔
جودھ پور کے سرکاری اسپتال متھراداس ماتھر اسپتال میں جہاں پروہت کام کرتا تھا، کے اسٹاف کے مطابق راج پروہت صبح کی شفٹ میں آتا تھا لیکن اس کے پچھلے ریکارڈ (سابقہ واقعات) کے بارے میں انہیں زیادہ معلومات نہیں تھی۔ ذرائع کے مطابق جب سادھوی پریم بائیسا کو پریکشا اسپتال لے جایا جا رہا تھا، تب سریش نامی شخص ان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھا جس نے انہیں سی پی آردیا۔ بدھ کو ہوئی سادھوی کی موت کے بعد کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ سادھوی پریم بائیسا کو ان کے والد ویرم ناتھ اور سریش آشرم سے جودھ پور کے ایک نجی اسپتال لے کر پہنچے تھے۔ پریکشا اسپتال کے ڈاکٹر پروین جین نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
















