جموں کے کٹرا میں شروع ہونے والا ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلباء کے لیے ایک سنہرا خواب تھا لیکن یہ خواب زیادہ دن نہیں چل پایا۔ کالج کا ایم بی بی ایس کورس منسوخ ہونے کے بعد وہاں پڑھنے والے 50 طلباء اچانک پریشانی میں آگئے۔ اب حالات میں کچھ بہتری آئی ہے اور یہ سبھی طلباء جموں و کشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں میں نئی شروعات کرچکے ہیں۔
ویشنو دیوی میڈیکل کالج کو گزشتہ سال ستمبر میں ایم بی بی ایس سیٹیں بھرنے کی اجازت ملی تھی۔ 50 طلباء کو این ای ای ٹی کی بنیاد پر داخلہ دیا گیا تھا لیکن لسٹ جاری ہونے کے بعد جموں میں احتجاج شروع ہوگیا۔ وجہ یہ تھی کہ زیادہ تر منتخب طلباء غیر ہندو تھے اور کالج کو ویشنو دیوی مندر کے عطیات سے منسلک بتایا جارہا تھا۔ لگاتار چل رہے احتجاج کے درمیان نیشنل میڈیکل کمیشن نے کالج کے بنیادی ڈھانچے میں خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے 26-2025 سیشن کے لیے ایم بی بی ایس کورس کی اجازت واپس لے لی۔ اس کے بعد کالج کا پہلا بیچ ادھورا رہ گیا لیکن طلباء کی پڑھائی بچانے کے لیے انہیں دوسرے کالجوں میں منتقل کر دیا گیا۔
ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے پہلے بیچ کے طلباء نے داخلہ کے ابتدائی دنوں میں ایک واٹس ایپ گروپ بنایا تھا۔ اس وقت گروپ میں خوشیوں، مبارکبادوں اور مستقبل کے خوابوں کی باتیں ہوتی تھیں لیکن جیسے جیسے کالج کے حوالے سے تنازعہ بڑھا گیا، وہی گروپ پریشانی اور خوف کا باعث بن گیا۔ اب کالج تو نہیں رہا لیکن وہ واٹس ایپ گروپ اس بیچ کی آخری نشانی بن کر رہ گیا ہے۔

















