مہاراشٹر کے پونے شہر میں زہریلی شراب پینے سے کم از کم 12 افراد کی موت کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہ معاملہ ہڈپسر علاقے کے پاندھرے مالا خطے کا بتایا جا رہا ہے، جہاں اموات کے بعد علاقے میں خوف اور بے چینی کی فضا پھیل گئی۔ پولیس، محکمہ آبکاری اور ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی جانچ شروع کر دی ہے جبکہ متعدد مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق شراب پینے کے کچھ ہی وقت بعد متاثرین کی طبیعت بگڑنے لگی۔ انہیں الٹی، شدید پیٹ درد اور دیگر علامات کی شکایت ہوئی، جس کے بعد انہیں مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 28 مئی کو دو افراد کی موت ہوئی تھی، تاہم اگلے دن اموات کی تعداد بڑھ کر 12 تک پہنچ گئی۔
علاقے کی رہائشی سنندا سابلے نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی بستی کے کئی افراد شامل ہیں۔ ان کے مطابق ایک ہی خاندان کے تین افراد، ارون، راہل اور یشونت، بھی اس سانحے کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شراب پینے کے تقریباً دس منٹ بعد ہی متاثرین کو الٹی اور پیٹ درد کی شکایت شروع ہو گئی تھی۔ سنندا سابلے نے دعویٰ کیا کہ غیر قانونی طور پر تیار کی جانے والی دیسی شراب کی فروخت پر فوری روک لگائی جانی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
علاقے کی ایک اور خاتون نے بھی غیر قانونی شراب کے خلاف ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شراب کی وجہ سے گھریلو جھگڑے بڑھتے ہیں اور خواتین و بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو شراب کی غیر قانونی فروخت کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔
ریاستی محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے پونے اور پمپری چنچوڑ کے پولیس کمشنروں کو معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اور کسی کو بھی رعایت نہ دی جائے۔
















