پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں ہنگامے کے بیچ ’پریوینشن آف انسلٹ ٹو نیشنل آنر (ترمیمی) بل‘ پیش کیا۔ یہ بل قومی وقار سے متعلق موجودہ قانون میں ترمیم کے مقصد سے لایا گیا ہے۔ اس ترمیمی بل کے ذریعے قومی علامتوں، قومی پرچم اور قومی وقار سے متعلق قانونی دفعات میں تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مانسون اجلاس کے دوران پیش کیے گئے اس بل پر پارلیمنٹ میں مزید بحث ہونے کا امکان ہے۔ ایوان میں پیش کیے جانے کے بعد اب اس بل کو غور و خوض اور منظوری کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ قومی وقار سے متعلق قوانین کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق مضبوط اور واضح بنانا ضروری ہے۔ اسی مقصد سے ’پریوینشن آف انسلٹ ٹو نیشنل آنر (ترمیمی) بل‘ راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ قومی گیت وندے ماترم کی توہین کرنے یا اس کے گائیکی میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے پر سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ نئی دفعات کے مطابق اگر کوئی شخص قصداً وندے ماترم گائے جانے کی توہین کرتا ہے یا اس کی گائیکی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اسے 3 سال تک کی قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ قومی وقار کی توہین کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت قومی علامتوں اور قومی وقار کا احترام کرنا تمام شہریوں کی ذمہ داری سمجھا گیا ہے۔ اسی کے تحت قومی ترانے اور قومی گیت کے احترام کے حوالے سے بھی قوانین بنائے گئے ہیں۔ قانون کے مطابق قومی ترانے کے دوران لوگوں کو احترام کے طور پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قومی ترانے یا قومی گیت گائے جانے کے دوران کسی طرح کا توہین آمیز رویہ اختیار کرنے یا رکاوٹ ڈالنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

















