• Home
جمعرات, اپریل 9, 2026
No Result
View All Result
हिंदी समाचार
Qaumi Tanzeem | Urdu Daily Newspaper | Patna | Ranchi | Lucknow
Epaper
  • صفحہ اول
  • قومی خبریں
  • بہار
    وزیر اعظم بہار کے مسئلہ پر بات نہیں کر رہے۔تیجسوی

    تیجسوی یادو کی بہار حکومت کو نصیحت

    نتیش کے ذریعےسرکاری افسران سے  ہاتھ جوڑ کر کام جلد نمٹانے کی اپیل

    14 اپریل کے بعد ملے گابہار کو نیا وزیراعلیٰ

    نالندہ کے شیتلا مندر میں بھگدڑ، 8 عقیدت مندوں کی موت

    نالندہ کے شیتلا مندر میں بھگدڑ، 8 عقیدت مندوں کی موت

    لوک سبھا انتخابات کےنتیجے آنے کے بعد بہار میں بڑا واقعہ پیش آنے کاتیجسوی کا دعویٰ

    یہ فیصلہ دباؤ میں لیا گیا اور بہار کو ٹھگا گیا

    آپ ایک خاتون ہیں اورآپ کو کچھ نہیں معلوم۔نتیش کمار

    نتیش کمار کا قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ

    پنکچر بنانے والے کی بیٹی صبرین پروین بنی ٹاپر

    پنکچر بنانے والے کی بیٹی صبرین پروین بنی ٹاپر

    بہار بورڈکے 10ویں کے نتائج کا اعلان

    بہار بورڈکے 10ویں کے نتائج کا اعلان

    نوادہ میں رام نومی جلوس کے دوران تشدد

    نوادہ میں رام نومی جلوس کے دوران تشدد

    سرکاری کیلنڈر میں محکمہ صحت عامہ و انجینئرنگ کے وزیر سنجے سنگھ کے اہل خانہ کی تصویر

    سرکاری کیلنڈر میں محکمہ صحت عامہ و انجینئرنگ کے وزیر سنجے سنگھ کے اہل خانہ کی تصویر

  • عالمی خبریں
  • ادبیات
  • تعلیم و روزگار
  • خواتین
  • انٹرٹینمنٹ
  • صفحہ اول
  • قومی خبریں
  • بہار
    وزیر اعظم بہار کے مسئلہ پر بات نہیں کر رہے۔تیجسوی

    تیجسوی یادو کی بہار حکومت کو نصیحت

    نتیش کے ذریعےسرکاری افسران سے  ہاتھ جوڑ کر کام جلد نمٹانے کی اپیل

    14 اپریل کے بعد ملے گابہار کو نیا وزیراعلیٰ

    نالندہ کے شیتلا مندر میں بھگدڑ، 8 عقیدت مندوں کی موت

    نالندہ کے شیتلا مندر میں بھگدڑ، 8 عقیدت مندوں کی موت

    لوک سبھا انتخابات کےنتیجے آنے کے بعد بہار میں بڑا واقعہ پیش آنے کاتیجسوی کا دعویٰ

    یہ فیصلہ دباؤ میں لیا گیا اور بہار کو ٹھگا گیا

    آپ ایک خاتون ہیں اورآپ کو کچھ نہیں معلوم۔نتیش کمار

    نتیش کمار کا قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ

    پنکچر بنانے والے کی بیٹی صبرین پروین بنی ٹاپر

    پنکچر بنانے والے کی بیٹی صبرین پروین بنی ٹاپر

    بہار بورڈکے 10ویں کے نتائج کا اعلان

    بہار بورڈکے 10ویں کے نتائج کا اعلان

    نوادہ میں رام نومی جلوس کے دوران تشدد

    نوادہ میں رام نومی جلوس کے دوران تشدد

    سرکاری کیلنڈر میں محکمہ صحت عامہ و انجینئرنگ کے وزیر سنجے سنگھ کے اہل خانہ کی تصویر

    سرکاری کیلنڈر میں محکمہ صحت عامہ و انجینئرنگ کے وزیر سنجے سنگھ کے اہل خانہ کی تصویر

  • عالمی خبریں
  • ادبیات
  • تعلیم و روزگار
  • خواتین
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Qaumi Tanzeem | Urdu Daily Newspaper | Patna | Ranchi | Lucknow
No Result
View All Result
ADVERTISEMENT
Home قومی خبریں

اتراکھنڈ میں یو سی سی کے نفاذ کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

جمعیۃ علماء ہند نے سوال کیا ہے کہ اگر درج فہرست قبائلیوں کو آئینی بل سے چھوٹ دی جا سکتی ہے تو مسلمانوں کو کیوں نہیں؟

by Qaumi Tanzeem
جنوری 28, 2025
in قومی خبریں
0
مسلمان ہر چیزسے سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن ا پنی شریعت سے نہیں ۔مولانا ارشدمدنی

اتراکھنڈ میں آج سے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ ہو گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس معاملے میں اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کر کے نہ صرف شہریوں کی مذہبی آزادی پر حملہ کیا گیا ہے، بلکہ یہ قانون پوری طرح سے تفریق اور تعصبات پر مبنی ہے۔ ساتھ ہی جمعیۃ نے اعلان کیا ہے کہ صدر مولانا ارشد مدنی کی رہنمائی میں اتراکھنڈ حکومت کے فیصلے کو نینی تال ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں میں چیلنج پیش کیا جائے گا۔

جمعیۃ کی طرف سے جاری ایک پریس بیان میں بتایا گیا ہے کہ ادارہ کے وکلاء نے اس قانون کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کی گہرائی سے جانچ کی ہے۔ جمعیۃ کا ماننا ہے کہ چونکہ یہ قانون تفریق اور تعصبات پر مبنی ہے، اس لیے اسے یکساں سول کوڈ نہیں کہا جا سکتا۔ مزید ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کسی ریاستی حکومت کو ایسا قانون بنانے کا اختیار ہے؟

اتراکھنڈ میں یو سی سی نافذ کرنے سے متعلق ریاستی حکومت کے فیصلہ پر صدر جمیعۃ مولانا ارشد مدنی نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں ایسا کوئی قانون منظور نہیں جو شریعت کے خلاف ہو، کیونکہ مسلمان ہر چیز سے سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن اپنی شریعت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ آج اتراکھنڈ میں نافذ یو سی سی میں ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 366، حصہ 25 کے تحت درج فہرست قبائل کو چھوٹ دی گئی ہے اور دلیل پیش کی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ان کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے سوال اٹھایا کہ اگر آئین کی ایک دفعہ کے تحت درج فہرست قبائل کو اس قانون سے علیحدہ رکھا جا سکتا ہے تو ہمیں (مسلمانوں کو) آئین کی دفعہ 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی کیوں نہیں دی جا سکتی، جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو منظوری دے کر مذہبی آزادی کی گارنٹی دی گئی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو یکساں سول کوڈ بنیادی حقوق کو مسترد کرتا ہے۔ اگر یہ یکساں سول کوڈ ہے تو پھر شہریوں کے درمیان یہ تفریق کیوں۔

صدر جمعیۃ مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ ’’ہماری قانونی ٹیم نے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور جمعیۃ اس فیصلے کو نینی تال ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ایک ساتھ چیلنج پیش کرنے جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا اپنے مذہبی معاملوں میں کسی بھی طرح کی نامناسب مداخلت برداشت نہیں کر سکتا۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں، جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے اپنے اپنے عقیدے پر پوری آزادی کے ساتھ عمل کرتے ہیں، وہاں یکساں سول کوڈ آئین میں شہریوں کو دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہوتا ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے اپنی بات کو مضبوطی کے ساتھ رکھتے ہوئے کہا کہ سوال مسلمانوں کے پرسنل لاء کا نہیں بلکہ ملک کے سیکولر آئین کو اپنی حالت میں برقرار رکھنے کا ہے۔ کیونکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور آئین میں سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ ملک کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہے۔ اس لیے یکساں سول کوڈ مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول ہے اور ملک کے اتحاد و سالمیت کے لیے بھی مضر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے لیے دفعہ 44 کو ثبوت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے، اور یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یکساں سول کوڈ کی بات تو آئین میں کہی گئی ہے، جبکہ دفعہ 44 گائیڈلائن نہیں ہے، بلکہ ایک مشورہ ہے۔ یہاں آئین کی دفعہ 25، 26 اور 29 کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا جن میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو قبول کرتے ہوئے مذہبی آزادی کی گارنٹی دی گئی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو یکساں سول کوڈ بنیادی حقوق کو مسترد کرتا ہے۔ پھر بھی ہماری حکومت کہتی ہے کہ ایک ملک میں ایک قانون ہوگا، اور یہ بھی کہ ایک گھر میں 2 قوانین نہیں ہو سکتے۔ یہ انتہائی عجیب بات ہے۔

اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہم یہ صاف کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا جو ’فیملی لاء‘ ہے، وہ انسانوں کا بنایا قانون نہیں، وہ قرآن اور حدیث پر مبنی ہے۔ اس پر فقہی بحث تو ہو سکتی ہے، لیکن بنیادی اصولوں پر ہمارے یہاں کوئی تفریق نہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ کہنا بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنا شہریوں کی مذہبی آزادی پر چوٹ کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں لگاتار نئے جذباتی و مذہبی ایشوز کھڑے کر ملک کے اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کو مستقل خوف میں رکھنا چاہتی ہیں، لیکن مسلمانوں کو کسی بھی طرح کے خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ ملک میں جب تک انصاف پسند لوگ باقی ہیں، ان کو ساتھ لے کر جمعیۃ علماء ہند ایسی طاقتوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی جو ملک کے اتحاد و سالمیت کے لیے نہ صرف ایک بڑا خطرہ ہیں، بلکہ سماج کو تفریق کی بنیاد پر بانٹنے والی بھی ہیں۔

Qaumi Tanzeem

Qaumi Tanzeem

Related Posts

ہلکی بارش کے بعد دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 24.5 ڈگری تک پہنچا
قومی خبریں

دہلی میں اپریل کے دوران غیر معمولی سردی نے 11 سال کا ریکارڈ توڑا

by Qaumi Tanzeem
اپریل 9, 2026
دہلی کے اسکولوں کو دھمکی آمیز ای میل ملنے کے بعد افراتفری
قومی خبریں

’7 شہروں کی سیفٹی ریٹنگ میں دہلی سب سے غیر محفوظ!‘

by Qaumi Tanzeem
اپریل 8, 2026
تین بینکوں پر 10 کروڑ روپے سے زیادہ کا جرمانہ
قومی خبریں

ریپو ریٹ 5.25 فیصد برقرار ، ای ایم آئی میں کوئی تبدیلی نہیں

by Qaumi Tanzeem
اپریل 8, 2026
سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کا 93 برس کی عمر میں انتقال
قومی خبریں

سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کا 93 برس کی عمر میں انتقال

by Qaumi Tanzeem
اپریل 8, 2026
وندے بھارت ایکسپریس کوچ میں لگی آگ
قومی خبریں

’وندے بھارت‘ ٹرین کے کھانا میں نکلا کیڑا

by Qaumi Tanzeem
اپریل 7, 2026
منی پور میں برہنہ کی گئی لڑکی کی والدہ نے بیان کیا اپنا درد
قومی خبریں

منی پور میں پھر تشدد، راکٹ حملہ میں 2 بچوں کی موت

by Qaumi Tanzeem
اپریل 7, 2026
Next Post
مہا کمبھ: مونی اماوسیہ پر عقیدت مندوں کا ہجوم

مہا کمبھ: مونی اماوسیہ پر عقیدت مندوں کا ہجوم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recommended

لکھنؤ میں  اہم اسکولوں کی بیک وقت چھٹی پر پابندی

لکھنؤ میں اہم اسکولوں کی بیک وقت چھٹی پر پابندی

2 گھنٹے ago
ہلکی بارش کے بعد دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 24.5 ڈگری تک پہنچا

دہلی میں اپریل کے دوران غیر معمولی سردی نے 11 سال کا ریکارڈ توڑا

2 گھنٹے ago

Popular News

    Connect with us

    Categories

    • aaa
    • اتر پردیش
    • ادبیات
    • انٹرٹینمنٹ
    • بہار
    • تعلیم و روزگار
    • خواتین
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • کھیل
    • About
    • Advertise
    • Terms & Conditions
    • Grievance
    • Letter to Editor
    • Contact

    © 2023 Qaumi Tanzeem - Urdu Daily Newspaper Qaumitanzeem

    No Result
    View All Result
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
      • بہار
    • عرب ممالک
    • عالمی خبریں
    • ادبیات
    • تعلیم و روزگار
    • کھیل
    • خواتین
    • انٹرٹینمنٹ
    • हिंदी समाचार

    © 2023 Qaumi Tanzeem - Urdu Daily Newspaper Qaumitanzeem