امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر جاری سسپنس بالآخر ختم ہو چکا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار (14 جون) کو امن معاہدے کا اعلان کیا۔ جمعہ کو امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ طور پر اس معاہدے پر دستخط ہوں گے، جس میں امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر محمد باقر غالیباف شامل ہوں گے۔ اس معاہدے کی شرائط کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لائے گا۔ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گا۔ اس سے خطے اور دنیا کے لیے دونوں طرف سے تیل کی سپلائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق ایران نے اس امن معاہدے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا نام دیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’’ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر فتح حاصل کر لی ہے۔ تہران کے عوام کی حمایت اور فوج کی انتھک کوششوں کے باعث کئی مہینوں کے کٹھن اور طویل مذاکرات کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس امن معاہدے پر جمعہ (19 جون) کو جنیوا میں دستخط ہوں گے۔ ایران کی طرف سے محمد باقر غالیباف اور عباس عراقچی جبکہ امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اس میں شریک ہوں گے۔ معاہدے کے تحت، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی فوری اور مکمل طور پر ہٹا لی جائے گی۔

















