لکھنؤ واقع بی جے پی کے ریاستی ہیڈکوارٹر میں اس وقت افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا، جب 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی کے تقریباً 50 امیدوار احتجاج کرتے ہوئے دفتر کے اندر پہنچ گئے۔ اس دوران وہ زمین پر لیٹ کر احتجاج کرنے لگے۔ وہ سبھی سر پر ’ریزرویشن گھوٹالہ‘ لکھی ہوئی ٹوپی پہنے تھے اور زور زور سے سیٹیاں بجا کر مخالفت کرتے ہوئے تقریباً نصف گھنٹے تک ہنگامہ اور نعرے بازی کرتے رہے۔ بعد میں پولیس نے کسی طرح سب کو باہر نکالا۔
بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی دفتر میں داخل ہو کر امیدوار مسلسل اپنے مطالبات کے حق میں حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاج کا طریقہ بھی اپنے آپ میں خاص تھا۔ امیدوار پہلے بی جے پی دفتر میں داخل ہوئے اور پھر زمین پر لیٹ کر مخالفت شروع کر دی۔ ان کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں، جن پر لکھا تھا کہ ’ریزرویشن گھوٹالے پر پسماندہ طبقات کے رہنما خاموش کیوں ہیں؟‘ کئی امیدواروں نے سر پر ’ریزرویشن گھوٹالہ‘ لکھی ہوئی ٹوپی بھی پہن رکھی تھی۔
بتایا جا رہا ہے کہ 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی کے امیدواروں نے اپنے گلے میں بی جے پی کے پٹکے پہن رکھے تھے۔ اس وجہ سے انہیں بی جے پی دفتر میں آسانی سے داخلہ مل گیا۔ داخلہ ملنے کے بعد دیگر امیدوار بھی اندر داخل ہو گئے اور اچانک زمین پر لیٹ کر احتجاج شروع کر دیا۔ جب تک حفاظتی اہلکار کچھ سمجھ پاتے، تب تک 50 سے زیادہ امیدوار احتجاج کرنے لگے اور ریزرویشن گھوٹالے کا الزام لگانے لگے۔ اس کے ساتھ ہی وہ سیٹیاں بھی بجانے لگے۔ امیدواروں کا الزام ہے کہ اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی میں ریزرویشن سے متعلق بے ضابطگیوں کی وجہ سے اہل امیدواروں کو ان کا حق نہیں ملا۔ وہ طویل عرصے سے بھرتی کے عمل میں ریزرویشن کے ضابطوں سے متعلق تنازعہ کے حل اور تقرری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


















