سپریم کورٹ میں یو پی آئی چارج کے خلاف ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ اس عرضی میں مرکزی حکومت کی وزارت خزانہ کی جانب سے 14 اور 15 ستمبر کو جاری کیے گئے ان گزٹ نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جن میں 2000 روپے سے زیادہ کے کمرشیل یو پی آئی لین دین پر چارج لگانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ عرضی وکیل انجن دتہ نے اس بنیاد پر دائر کی ہے کہ حال ہی میں اعلان کیے گئے چارج کا اثر بالآخر عام شہریوں پر پڑے گا۔ یہ عرضی مرکزی حکومت، آر بی آئی، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) اور یو پی آئی کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
عرضی گزار نے دلیل دی کہ اگرچہ ان چارجز کو معمولی اور یو پی آئی پلیٹ فارم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری بتایا جا رہا ہے، لیکن فیس براہ راست پلیٹ فارم یا تاجر پر عائد کی جائے تب بھی اس کا اثر عام لوگوں پر پڑ سکتا ہے۔ عرضی گزار نے یہ بھی کہا کہ یو پی آئی لین دین پر چارج لگانے سے نقد ادائیگی کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس سے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ عرضی میں مرکزی حکومت، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) اور یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) سے وابستہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ عرضی گزار نے سپریم کورٹ سے وزارت خزانہ کی جانب سے جاری دونوں نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں 15 اکتوبر سے ڈیجیٹل پیمنٹ سے متعلق ایک بڑی تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے منگل (15 ستمبر) کو اعلان کیا کہ 15 اکتوبر سے حکومت چنندہ پرسن ٹو مرچنٹ (پی2ایم) یو پی آئی لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) نافذ کرے گی۔ اس پالیسی کے تحت تاجروں کو 2000 روپے سے زیادہ کے لین دین پر 0.4 فیصد فیس ادا کرنی ہوگی، جبکہ 75000 روپے یا اس سے زیادہ کی ادائیگی پر 300 روپے کی حد مقرر کی گئی ہے۔


















