مرکزی حکومت نے ملازمین کو بڑی راحت دیتے ہوئے پروویڈنٹ فنڈ (پی ایف) کوریج کے لیے ماہانہ تنخواہ کی حد 15,000 سے بڑھا کر 25,000 روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کی جانکاری آج مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے دی۔ اس فیصلہ سے زیادہ تعداد میں ملازمین پی ایف اور سماجی تحفظ کے دائرے میں آ سکیں گے۔ پی ایف کوریج کی حد بڑھانے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اب 25,000 روپے تک بنیادی تنخواہ پانے والے ملازمین کے لیے پی ایف اور پنشن (ای پی ایس) کٹوانا لازمی ہو جائے گا۔
مرکزی وزیر اشونی ویشنو کے مطابق اس فیصلہ سے ملازمین کو بہتر سماجی تحفظ اور اقتصادی استحکام ملے گا۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ اس تبدیلی پر ہر سال تقریباً 11,339 کروڑ کا اضافی خرچ آئے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ سماجی تحفظ کا دائرہ بڑھنے سے ملازمین کو طویل مدت میں فائدہ ہوگا اور کمپنیوں کو بھی ملازمین کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آسان زبان میں سمجھیں تو اگر کسی ملازم کی بنیادی تنخواہ اور ڈی اے ملا کر 25,000 روپے یا اس سے کم ہے، تو اسے ای پی ایف کے دائرے میں شامل کرنا کمپنی کے لیے ضروری ہوگا۔ وہیں، اگر کسی ملازم کی بنیادی تنخواہ ڈی اے + 25,000 روپے سے زیادہ ہے اور وہ پہلی بار ملازمت کر رہا ہے، یعنی پہلے سے ای پی ایف کا رکن نہیں ہے، تو اس کے لیے ای پی ایف میں شامل ہونا لازمی نہیں ہوگا۔ ایسے ملازم کے پاس ای پی ایف لینے یا نہ لینے کا اختیار ہوگا۔


















