عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھیانک تیزی اور مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا) میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا براہ راست اثر ہندوستانی کرنسی پر پڑا ہے۔ پیرکو ہندوستانی روپیہ 92.20 پر کھلا جو کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 46 پیسے کی زبردست گراوٹ ہے اور یہ گراوٹ اس کے فوراً بعد شدت اختیار کر گئی۔ صبح 9:50 بجے ڈالر کے مقابلے روپیہ 56 پیسے سے زیادہ کی گراوٹ کے ساتھ ریکارڈ سطح کے قریب 92.35 پر پہنچ گیا۔
پیر کو گراوٹ نے روپے کو تاریخی کم ترین سطح کے قریب دھکیل دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کے جھٹکے اور عالمی عدم استحکام کے درمیان ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی کرنسیوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ روپے کی اس کمزوری کے پیچھے سب سے بڑی وجہ توانائی کی عالمی منڈی میں مچی کھلبلی ہے۔ پیر کو برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 25 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا جو 114 ڈالر فی بیرل کو عبور کر گیا۔ گزشتہ دو ہفتوں میں خام تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی تقریباً 50 فیصد اضافہ درج کیا جاچکا ہے۔
کمزور ہوتا ہوا روپیہ اور تیل کی بڑھتی قیمتوں سے ہندوستان کے درآمدی بل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو پٹرول، ڈیزل اور نقل وحمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات عام آدمی کی جیب پر مزید بوجھ ڈالیں گے۔ اس سے عام آدمی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ایران کے شامل ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ جنگ کی جوہ سے آبنائے ہرمز سے ہونے والی تیل کی سپلائی پوری طرح ٹھپ ہوسکتی ہے۔ یہ راہداری عالمی تیل سپلائی کے لیے سب سے اہم ’چوک پوائنٹ‘ ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک کی جانب سے پیداوار میں کی گئی کمی نے بازار میں تیل کی قلت کو بڑھا دیا ہے۔
کرنسی تاجروں کے مطابق امریکہ-ایران تنازعہ کی وجہ سے عالمی سطح پرغیر یقینی کاماحول ہے جس سے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کے مطالبے میں اضافہ ہوا ہے۔ نتیجتاً ڈالر کا انڈیکس 98 کا ہندسہ عبور کر گیا، جس سے ہندوستانی کرنسی پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملکی اسٹاک مارکیٹوں میں بھاری فروخت اور غیر ملکی سرمائے کے مسلسل اخراج نے بھی روپے کی گراوٹ میں اہم کردار ادا کیا۔
















