تہواروں اور تعطیلات کے دوران ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اچانک اور بھاری اضافے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے پیر کو سخت رخ اختیار کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایئرلائنز مسافروں کے مفادات سے متعلق طے شدہ ضابطوں کی پابندی نہیں کر رہی ہیں تو ان کی پروازیں روکنے جیسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے جو انتظامات اور ضابطے بنائے گئے ہیں، ان پر عمل درآمد اور ان کے مؤثر ریگولیشن کی موجودہ صورت حال ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں حکومت سے واضح اقدامات اور ضابطہ بندی کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انل کوشک نے مرکز کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ ہوائی کرایوں اور مختلف فیس سے متعلق قواعد وضع کرنے کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کو مکمل کرنے میں تقریباً 3 ہفتے کا وقت درکار ہوگا۔ مرکز نے یقین دہانی کرائی کہ قواعد کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد انہیں سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے حکومت کی تین ہفتے کی مہلت کی درخواست منظور کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت 7 ستمبر مقرر کر دی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے مرکزی حکومت کے مؤقف پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مرکزی وزیر شہری ہوابازی نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ حکومت ہوائی کرایوں پر کوئی حد مقرر نہیں کر سکتی اور اس معاملے میں اس کے پاس بہت محدود اختیارات ہیں۔
اس معاملے کی گزشتہ سماعت کے دوران بھی سپریم کورٹ نے ہوائی کرایوں کے تعین میں ایئرلائنز کی من مانی پر سخت تبصرہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ کرایوں میں من مانی مسافروں کے استحصال کے مترادف ہے اور حکومت کو مسافروں کو راحت فراہم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔


















