چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہفتہ کو ایک بار پھر دہلی کے جنتر منتر پر سماجی کارکنوں، وکیلوں اور طلبا لیڈران نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تاہم پٹیل چوک سے جنتر منتر کی جانب مارچ کر رہے سینکڑوں مظاہرین کو پولیس نے زبردستی حراست میں لے لیا۔ پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے مظاہرین میں آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا، سماجی کارکن یوگیندر یادو اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن شامل ہیں۔
سبل، نتیا رام کرشنن، پلو سسودیا اور پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو جیسی شخصیات نیہا بورا اور دیگر طلبا کے ساتھ مارچ میں شامل ہوئے۔ احتجاجی مقام کے قریب مظاہرین کے جمع ہوتے ہی پولیس نے انہیں حراست میں لینا شروع کر دیا۔ دراصل سیکورٹی اہلکاروں کو کئی مقامات پر تعینات کیا گیا تھا اور جنتر منتر کی طرف جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔
آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا کی اپیل کے بعد ہفتہ کو یہ مظاہرین جنتر منتر پر جمع ہونے کے لیے آگے بڑھے تھے۔ نیہا بورا کو جمعہ کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے کارکنوں سے دوپہر ایک بجے جنتر منتر واپس آنے اور احتجاج جاری رکھنے کو کہا تھا۔ یہ سبھی مظاہرین ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر تشویش ظاہر کرتے ہوئے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آئیسا کے اراکین نے الزام لگایا کہ پولیس کارروائی کے دوران ایک مرد پولیس افسر نے بورا کے ساتھ دھکا مکی بھی کی اور دہلی پولیس کے ایک دیگر افسر نے انہیں گالیاں دیں۔ ’ایکس‘ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دہلی پولیس اہلکار نیہا بورا کے ساتھ دھکا مکی کرتے ہوئے نظر بھی آ رہی ہے۔ ویڈیو میں نیہا چیختے ہوئے پولیس والوں پر انہیں مارنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ ان الزامات کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔


















