جبل پور سے ایک ایسا گھپلا سامنے آیا ہے جس نے مدھیہ پردیش کی یونیورسٹیوں میں جاری مبینہ بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ الزام ہے کہ سرکاری ریسرچ اور تربیت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے لیکن اس کا فائدہ محققین یا کسانوں تک نہیں پہنچا۔ الزام یہ بھی ہے کہ تقریباً 3.5 کروڑ روپے کی رقم سے ذمہ دار افسران عیش کرتے رہے۔
’آج تک‘ کی خبر کے مطابق مدھیہ پردیش کے جبل پور میں واقع ناناجی دیشمکھ ویٹرنری سائنس یونیورسٹی ان دنوں ایک بڑے گھپلے کو لے کر سرخیوں میں ہے۔ گائے کے گوبر اور پیشاب کے استعمال سے کینسر جیسی سنگین بیماریوں پر ریسرچ کے نام پر ملنے والے 3.5 کروڑ روپے کا ایک بڑا حصہ مبینہ طور پرغلط کاموں پر خرچ کردیا گیا۔ جیسے ہی معاملے کی جانچ شروع ہوئی، کئی چونکا نے والے انکشافات سامنے آئے۔
خبرکے مطابق 2011 میں نیشنل ایگریکلچر سائنس اسکیم کے تحت جبل پور کی ناناجی دیشمکھ ویٹرنری یونیورسٹی نے پنچ گویہ کو فروغ دینے اور گائے کے گوبر، پیشاب اور دودھ سے کینسر جیسی باماریوں پر ریسرچ کے لئے حکومت سے 8 کروڑ 74 لاکھ روپئے کی مانگ کی گئی تھی۔ حکومت نے اس کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ روپئے منظورکئے۔ اجس رقم سے ریسرچ پنچ گویہ کی تشہراورکسانوں کو ٹریننگ دی جانا تھی لیکن زمینی حقیقت اس سے بالکل مختلف نکلی۔ نہ تو کوئی ٹھوس ریسرچ ہوئی اور نہ ہی کسانوں کو مطلوبہ تربیت دی گئی۔ اس کے برعکس افسران کے ذریعہ اس فنڈ کے غلط استعمال کے الزامات سامنے آئے۔
جبل پور کے ایس ڈی ایم رگھویر سنگھ ماروی نے بتایا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ 2011 سے 2018 کے درمیان حکومت سے ملے 3.5 کروڑ روپے سے زیادہ رقم کا غلط استعمال کیا گیا۔ ریسرچ فنڈ سے مہنگی گاڑیاں اور دورے کئے گئے جبکہ اس منصوبے میں اس کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ کئی اہم دستاویزات یا تو تباہ کر دیئے گئیے یا جان بوجھ کر تفتیشی ٹیم کو فراہم نہیں کئے گئے۔


















