نئی دہلی: راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کے چیف وہپ جے رام رمیش کی طرف سے دی گئی تحریک استحقاق کی خلاف ورزی کی تجویز کو آج چیئرمین جگدیپ دھنکڑ نے مسترد کر دیا۔ کانگریس نے امت شاہ پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایوان میں سونیا گاندھی کے خلاف گمراہ کن بیان دیا ہے۔ تاہم چیئرمین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس بدلہ لینے اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔
ایوان میں ضروری دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد چیئرمین جگدیپ دھنکڑ نے اعلان کیا کہ جے رام رمیش نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ترمیمی بل پر بحث کے دوران وزیر داخلہ کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے تحریک استحقاق کی تجویز دی تھی۔ جے رام رمیش نے شاہ پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے سونیا گاندھی کے خلاف غلط بیانی کی ہے۔ تاہم چیئرمین نے کہا کہ امت شاہ نے اپنے بیان کی تصدیق کے لیے 24 جنوری 1948 کی حکومت ہند کی ایک پریس ریلیز ایوان میں پیش کی ہے۔ اس پریس ریلیز میں وزیراعظم ریلیف فنڈ کی تشکیل کی تفصیلات شامل ہیں، جس میں وزیراعظم اور کانگریس صدر کو شامل کیا گیا تھا۔
چیئرمین دھنکڑ نے کہا کہ تحریک استحقاق کی تجویز کا مقصد محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب حقائق کی بنیاد پر جے رام رمیش کی تحریک کو خارج کیا جاتا ہے۔
اس فیصلے پر کانگریس نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ امت شاہ کا بیان حقائق کے برعکس ہے اور وہ جان بوجھ کر سونیا گاندھی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے چیئرمین کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے اور اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔