اندور: اندور کے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی پینے سے کئی لوگوں کی موت ہو گئی اور تقریباً 125 لوگ بیمار ہوئے ہیں۔ کئی لوگوں کو اسپتال سے چھٹی مل چکی ہے، لیکن ہنگامہ کا ماحول اب بھی برقرار ہے۔ اندور کارپوریشن کمشنر دلیپ کمار یادو نے اس واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن ہر محاذ پر کام کر رہا ہے۔ بھاگیرتھ پورہ میں گندہ پانی کے بحران کے بعد میونسپل کارپوریشن مستعد ہو گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جانچ میں چوکی سے ملحق بیت الخلا کے نیچے مین لائن میں لیکیج سامنے آیا ہے۔ اس لیکیج کے سبب آلودہ پانی کے پائپ لائن میں ملنے کا خطرہ بنا ہوا تھا۔ دلیپ کمار یادو کی ہدایت پر فوری مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
اس معاملے میں کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کیا ہے اور وزیر اعلیٰ موہن یادو کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں اندور کے فکر انگیز حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مدھیہ پردیش میں گندہ پانی پینے سے 8 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اندور کی عوام شکایت کرتی رہی، صاف پانی مانگتی رہی، لیکن حکومت نے توجہ نہیں دی۔‘‘ ویڈیو میں فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’بالآخر لوگوں کو گندہ پانی پینا پڑا۔ اب یہ افسوسناک خبر آ رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ نے لوگوں کی جان کی قیمت 2 لاکھ روپے لگائی ہے اور نئے سال کے جشن میں ڈوب چکے ہیں۔ یہ بے حد شرمناک ہے۔


















