نئی دہلی:متنازعہ بیانات دینے کے لیے مشہور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے ایک بار پھر اپنے بیان سے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے 25 مارچ کو مرکزی وزیر برائے زراعت و دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان کو ’امیروں کا دلال‘ کہہ ڈالا۔ انھوں نے شیوراج پر امیروں کے دلال کی شکل میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں ہدف تنقید بنایا، اور ساتھ ہی مرکز کی بی جے پی حکومت پر بھی حملہ بولا۔ انھوں نے مغربی بنگال کو زیر التوا مرکزی فنڈس سے متعلق بھی مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔
بی جے پی نے شیوراج سنگھ چوہان سے متعلق کلیان بنرجی کے بیان پر بلاتاخیر جوابی حملہ شروع کر دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے زراعت بھگیرتھ چودھری نے شیوراج کے خلاف قابل اعتراض زبان کے استعمال کے لیے کلیان بنرجی سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ درست نہیں ہے۔ ایک سینئر رکن پارلیمنٹ کو اس طرح کا زبان استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم مودی ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘ کے اصول پر کام کر رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کے ساتھ تفریق نہیں کی گئی ہے، سبھی کو ان کا حصہ مل رہا ہے۔‘‘ بھگیرتھ چودھری نے مزید کہا کہ ’’ایک وزیر کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرنے کے لیے بنرجی کو معافی مانگنی چاہیے۔
اس معاملے میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران کلیان بنرجی نے کہا کہ منریگا اور پی ایم رہائش منصوبہ جیسے منصوبوں کے لیے مغربی بنگال کو مرکزی حکومت نے گزشتہ 3 سالوں سے فنڈ جاری نہیں کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے میں ناکام رہی، اور اسی وجہ سے بنگال کے ساتھ تفریق کر رہی ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ شیوراج سنگھ چوہان امیروں کے دلال ہیں، وہ غریبوں کے لیے کام نہیں کرتے، اسی لیے انھیں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔