دیہی ہندوستان میں زمین کی ملکیت کے معاملے میں بڑی عدم مساوات سامنے آئی ہے۔ عالمی عدم مساوات لیب کی تازہ ترین رپورٹ ’لینڈ ایکویٹی ان انڈیا: ہسٹری اینڈ مارکیٹس‘ کے مطابق ملک کے تقریباً 46 فیصد دیہی خاندانوں کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے جب کہ محض 10 فیصد لوگوں کے پاس 44 فیصد زرعی زمین کی دولت موجود ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ صرف 1 فیصد امیر ترین طبقے کے پاس 18 فیصد زمین کا کنٹرول ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دیہی ہندوستان کی ایک بڑی آبادی یا تو دوسروں کی زمین پر انحصار کرتی ہے یا مزدوری پر زندگی گزارتی ہے۔ اس مطالعہ میں تقریباً 2.7 لاکھ مواضعات اور 65 کروڑ لوگوں سے متعلق ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے جس سے یہ ہندوستان میں زمین کی ملکیت کے بارے میں اب تک کے سب سے جامع مطالعات میں سے ایک ہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی یہ غیر مساوی تقسیم صرف معاشی عوامل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ قدرتی حالات، تاریخی نظام اور مارکیٹ کا کردار بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں زمین کی تقسیم کے انداز میں اس قدر فرق ہے کہ یہ فرق کئی ممالک میں پائی جانے والی عدم مساوات کے برابر ہے۔
سب سے بڑی عدم مساوات اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور اڈیشہ جیسی ریاستوں میں دیکھی جاتی ہے، جہاں نوآبادیاتی دور کی جاگیرداری اور سماجی ڈھانچے کا اثر آج بھی برقرار ہے۔ ان ریاستوں میں زمین کا ایک بڑا حصہ چند خاندانوں کے ہاتھ میں ہے، جب کہ ایک بڑی آبادی بے زمین یا پسماندہ کسانوں کے طور پر موجود ہے۔ اس کے برعکس کیرالہ اور مغربی بنگال جیسی ریاستیں نسبتاً بہتر زمین کی تقسیم کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان ریاستوں میں زمینی اصلاحات اور کرایہ داری کے قوانین کے موثر نفاذ نے عدم مساوات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سڑکوں، بازاروں اور شہروں سے قربت جیسی جدید ترقیاتی سہولیات بھی زمینی عدم مساوات کو کم کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ یہاں تک کہ بہتر رابطے اور بازار تک رسائی والے علاقوں میں بھی زمین کی غیر مساوی تقسیم برقرار ہے۔ کئی مواضعات میں ایک بڑا زمیندار اوسطاً 12 فیصد زمین کا مالک ہوتا ہے، جب کہ بعض صورتوں میں ایک فرد آدھے سے زیادہ کا کنٹرول رکھتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جن مواضعات میں زمینی عدم مساوات نسبتاً کم ہے وہاں بنیادی ترقی جیسے سڑک اور تعلیم کی سہولیات بہترنظر آتی ہیں۔


















