نئی دہلی: مرکز جماعت اسلامی ہند کے میڈیا ہال میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سے بنیادی طور پر ایک مذہبی ملک رہا ہے۔یہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے باوجود بقائے باہمی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک شاندار روایت موجود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر ہمارے مذہبی رہنماؤں اور اداروں نے اتحاد کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اب یہ وراثت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ انہوں نے فرقہ وارانہ بیان بازی، اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقریریں ، ہجومی تشدد اور مذہبی منافرت میں روز بہ روز اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ۔
جنوبی ایشیا جسٹس کیمپین کے انڈیا پرسی کیوشن ٹریکر 2025 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر انجینئر سلیم نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ریاستی اور غیر ریاستی سطح پر زیادتیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان میں جھوٹے انکاؤنٹر، ہجومی تشدد، من مانی گرفتاریاں، مکانات کی مسماری، بے لگام نفرت انگیز تقریریں اور جبری بے دخلیاں شامل ہیں۔
پروفیسر انجینئر سلیم نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کچھ طاقتیں سیاسی فائدے کے لیے مذہب کا غلط استعمال کر کے سماج میں فرقہ وارانہ خلیج پیدا کر رہی ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی یقین ہے کہ ملک کے عوام میں فرقہ پرست قوتوں کو شکست دینے کی بہترین صلاحیت موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے جماعتِ اسلامی ہند’ دھارمک جن مورچہ ‘ اور ’ سادبھاؤنا منچ ‘ جیسے بین المذاہب اور امن کے پلیٹ فارموں کے ذریعے پورے ملک میں مسلسل کام کر رہی ہے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند نے 2026 کو ’ امن، اتحاد اور انصاف اور سب کے لیے جامع اور پائیدار ترقی کا سال‘ بنانے کے لیے اپنی جدو جہد کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے۔ ہم تمام مذہبی اور سماجی رہنماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ امن و انصاف کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں ساتھ ہی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس عظیم مقصد میں شامل ہوں۔
سردیوں کی مشکلات پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ شمالی اور مشرقی بھارت میں جاری شدید سردی کے دوران جماعت اسلامی ہند ہم خیال تنظیموں کے تعاون سے غریب اور بے گھر افراد کے لیے کمبل تقسیم کرنے کی مہم چلا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات شدید سرد لہر کے تناظر میں ایسے افراد کی مدد کے لیے کئے گئے ہیں جو پناہ گاہوں کی کمی کی وجہ سے کھلے مقامات پر سخت سردی میں رہنے کو مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذات ، مذہب یا طبقے سے قطع نظر بلا تفریق ضرورت مندوں کو گرم کمبل فراہم کئے جارہے ہیں ۔ملک معتصم خان نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ سردیوں کے دوران پیشگی اور عملی اقدامات کرے، جن میں رین بسیروں میں توسیع، گرم کپڑوں کی تقسیم، گرم کھانوں کی فراہمی، موبائل ہیلتھ یونٹس کا قیام اور حفاظتی نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ عطیات، رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی کی دیکھ بھال کے ذریعے تعاون کریں تاکہ سخت سرد موسم میں کوئی بھی شخص بے سہارا نہ رہ جائے ۔
ملک کے مختلف علاقوں میں عیسائی برادری کو نشانہ بنائے جانے کےحالیہ واقعات میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ہم عیسائی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مذہبی تقریبات میں خلل، تدفین سے متعلق تنازعات اور تبدیلیِ مذہب مخالف قوانین کے تحت الزامات جیسے واقعات اگر بروقت حل نہ کئے گئے تو خوف اور بداعتمادی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔
ملک معتصم خان نے شمال مشرقی ریاست تریپورہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایم بی اے طالب علم اینجل چکما کے ہولناک ہجومی قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے نسلی تعصب پر مبنی نفرت انگیز جرم قرار دیا ہے ۔ اس طرح کے حملے سماجی ناکامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں، جن کے باعث سماج دشمن عناصر خود کو بے خوف محسوس کرتے ہیں۔
ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے اتراکھنڈ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کی فوری گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں، ان پر سخت ترین قانونی دفعات لگائی جائیں، متاثرین اور گواہوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف و معاوضے کی ضمانت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب سے بڑھ کر ملک کو نسلی اور نفرت پر مبنی تشدد کے خلاف ایک جامع قومی قانون کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اس اعلان کو یاد دلایا کہ کسی انسان کو دوسرے پر کوئی برتری حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے، جو عالمگیر انسانی وقار اور مساوات کی توثیق کرتا ہے۔


















