فتح پور سیکری: عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ رئیس میاں چشتیؒ کے وصال کے بعد درگاہ شریف میں تعزیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملک بھر سے مذہبی، سیاسی، سماجی، روحانی اور صوفی شخصیات کے علاوہ ہزاروں عقیدت مند درگاہ پہنچ کر مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ درگاہ کا ماحول سوگ، عقیدت اور دعاؤں سے معمور ہے، جہاں مرحوم کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ اتر پردیش اکھلیش یادو نے رئیس میاں چشتیؒ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی محبت، رواداری، بھائی چارے اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے وقف رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا انتقال صرف صوفی دنیا ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور روحانی ورثے کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔
دوسری جانب، درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ میں روحانی روایت کے مطابق پیرزادہ ارشد فریدی چشتی کی رسمِ دستاربندی نہایت وقار، روحانی فضا اور صوفیانہ روایات کے مطابق انجام دی گئی۔ اس موقع پر آستانۂ عالیہ قادریہ کے سجادہ نشین سنوان قادری، خانقاہ فریدیہ حیدرآباد کے سجادہ نشین شجاع الدین شاہد فریدی اور دیگر معزز صوفیائے کرام موجود تھے۔ تقریب کے دوران نئے سجادہ نشین کے حق میں خصوصی دعائیں کی گئیں اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ وہ اپنے اسلاف کی روحانی، دینی اور سماجی خدمات کے عظیم سلسلے کو اسی وقار، اخلاص اور صوفیانہ روایات کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
اس موقع پر مختلف خانقاہوں کے سجادگان، مذہبی قائدین اور سماجی شخصیات نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ رئیس میاں چشتیؒ نے اپنی پوری زندگی درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی روحانی روایات، بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور انسان دوستی کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی شخصیت محبت، انکساری، اعلیٰ اخلاق اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ تھی، جس کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔














