نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف گجرات میں درج مقدمہ کو خارج کر دیا۔ ان پر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قابل اعتراض نظم پوسٹ کرنے کا الزام تھا۔ عدالت نے کہا کہ نظم میں کوئی جرم نہیں بنتا اور ایف آئی آر درج کرنے سے قبل پولیس کو تحریری یا بولے گئے الفاظ کے معنی کو سمجھنا چاہیے۔
جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس اجول بھویاں کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ شہریوں کے اظہار رائے کے حق کو خیالی یا غیر معقول انداز میں کچلا نہیں جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ فن کی مختلف شکلیں، جیسے شاعری، ڈرامہ اور موسیقی انسانی زندگی کو بامقصد بناتی ہیں اور اس کے ذریعے لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی دی جانی چاہیے۔
عدالت عظمیٰ نے 21 جنوری کو کانگریس ایم پی کو عبوری تحفظ دیتے ہوئے ان کے خلاف کسی بھی تعزیری کارروائی پر روک لگا دی تھی۔ گجرات ہائی کورٹ نے 17 جنوری کو مقدمہ منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد عمران پرتاپ گڑھی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
جس نظم پر گجرات پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، وہ عمران پرتاپ گڑھی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی، جس کے اشعار کچھ یوں تھے:
’’…اے خون کے پیاسے بات سنو
ہر دور میں ہم پر وار ہوا
ہر دور میں ہم تلوار بنے
ہم خاک ہوئے، ہم دھول ہوئے
پھر زندہ رہے، پھر پھول ہوئے…”
یہ نظم اس وقت وائرل ہوئی تھی اور بعض حلقوں نے اسے فرقہ وارانہ منافرت بھڑکانے والا قرار دیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف گجرات کے جام نگر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پرتاپ گڑھی کے خلاف 3 جنوری کو جام نگر پولیس نے مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، قومی یکجہتی کے خلاف متعصبانہ بیانات دینے اور مذہبی عقائد کی توہین جیسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔سپریم کورٹ نے گجرات پولیس کی ایف آئی آر کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا اور کہا کہ اظہار رائے کے حق کو غیر ضروری طور پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔