نئی دہلی، جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کے حالات اس وقت انتہائی تشویشناک ہیں۔ریلیز کے مطابق انہوں نے دعوی کیا کہ آئین اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں پر عرصئہ حیات تنگ کردیا گیا ہے ۔ امتیاز ، ناانصافی اور نفرت کا سلسلہ انتہا کو پہنچ چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں اقتدار میں بیٹھے لوگ خود کو ہی قانون سمجھنے لگے ہیں اور آمریت ان کے مزاج کا حصہ بنتی جارہی ہے ۔ دستور کی روح کو مجروح کیا جا رہا ہے اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جارہا ہے ، ملک تباہی کے آخری نشان کو چھو رہا ہے جس کے سنگین نتائج ملک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ بلڈوزر آج انصاف کا نہیں بلکہ انتقام، تعصب اور نفرت کی علامت بن چکا ہے ۔ قانون اور عدالتوں کو نظر انداز کرکے عوام کے گھروں، دوکانوں اور عبادت گاہوں کو مسمار کرنا آئین کے خلاف ہے اور انصاف کے دوہرے پیمانے سے بدامنی اور تباہی کے راستے کھلتے ہیں۔ اگر حکومتیں عدالتوں کی جگہ بلڈوزر سے انصاف کرنے لگیں تو پھر قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کا کیا مطلب باقی رہ جاتا ہے ؟ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بلڈوزور چلاکر کسی کا گھر توڑنا سزا نہیں جرم ہے ، عدالت نے کہا تھا کہ سرکار جج نہیں بن سکتی،قانونی اور غیرقانونی تعین عدلیہ ہی کرے گی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جن مدارس اور مساجد پر آج بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں، انہی اداروں کے علماء نے انگریز استعمار کے خلاف 1803 ء میں جہاد آزادی کا فتویٰ دیا اور پھراس کے نتیجے میں جنگ آزادی کے متوالوں نے تحریک آزادی کی قیادت کی اور ملک کی آزادی کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ آج انہی اداروں کو تعصب اور نفرت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔گذشتہ کچھ برسوں میں حکومت سے فرقہ پرستوں کی کھلی حمایت اور قانونی اداروں کی خاموشی سے جس طرح نفرت کی سیاست کو بڑھاوا ملا ہے اس سے ان صدیوں پرانی اقدار کو نقصان پہنچا ہے جو ملک کی صدیوں پرانی تہذیب اور روایت کا حصہ رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں سے حب الوطنی کی سند وہ لوگ مانگ رہے ہیں جن کے اجداد کے انگریز حکومت سے معافی نامے اور مصالحت کے واقعات درج ہیں، جبکہ مسلمانوں کے اکابر نے ملک کی آزادی کیلئے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ان حالات کے پیش نظر 14اور 15مئی کو جمعیۃعلماء کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہواتھا ، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف مذاہب کے درمیان باہمی رواداری، احترامِ انسانیت اور بقائے باہمی کے فروغ کیلئے ہر سطح پر ‘تحریک ہندو مسلم اتحاد پروگرام کئے جائیں گے ۔ (یو این آئی)

















