دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے جمعرات کو 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے دہلی فسادات معاملے میں ملزم بنائے گئے 13 افراد کو بری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ استغاثہ کے اہم گواہ کی گواہی شبہات کے دائرے میں تھی۔ اس وجہ سے ملزمین کے خلاف عائد الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔ عدالت نے کہا کہ گواہ کی اعتباریت پر سنگین سوالیہ نشان تھے، ایسی صورت میں کسی بھی ملزم کو قصوروار ٹھہرانا انصاف کے منافی ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ فسادات کے معاملات میں اکثر گواہوں کی شناخت اور ان کی گواہی کی صداقت ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے۔ اس معاملے میں بھی استغاثہ مناسب ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ ملزمین کو شبہات کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ عدالتی عمل کے اہم اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ عدالت نے پایا کہ اہم گواہ کی گواہی میں کئی تضادات تھے۔ اس کی باتوں میں بھی تضاد سامنے آیا۔ ان تضادات کی وجہ سے گواہ کی اعتباریت پر شک پیدا ہوا۔ عدالتی نظام میں گواہ کی گواہی کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اگر گواہ کی گواہی کمزور ہو تو ملزم کو بری کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ دہلی فسادات معاملہ میں پہلے بھی کئی ملزمین کو بری کیا جا چکا ہے۔ حالانکہ دہلی فسادات سے جڑے کئی معاملے اب بھی زیر سماعت ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند بھی دہلی فسادات کے کئی معاملوں میں اپنے وکیلوں کو آگے بڑھایا ہے۔ کئی بے قصوروار افراد کو جمعیۃ نے اپنی کوششوں سے جیل کے باہر بھی نکالا ہے۔ عدالت میں مضبوط دلیلوں کے ساتھ کئی مقدمات اس ادارہ نے جیتے ہیں۔

















