نئی دہلی، کانگریس نے رام مندر میں چندہ اور چڑھاوا چوری میں حکومت پر چھوٹے ملازمین کو نشانہ بنا کرمعاملے کورفع دفع کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یہ سنگین معاملہ ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے خاطیوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس اس معاملے میں ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے ۔ اتر پردیش اسمبلی میں کانگریس مقننہ پارٹی کی لیڈر محترمہ آرادھنا مشرا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ صرف دکھ کا اظہار کرنے سے آر ایس ایس اس مہا پاپ سے بچ نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بتایا جانا چاہیے کہ کیا چمپت رائے ، انل مشرا اور گوپال راؤ آر ایس ایس سے وابستہ نہیں ہیں۔ ان لوگوں کے بغیر چندہ چوری نہیں ہو سکتی ۔
انہوں نے سوال کیا کہ آخر اب تک ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر بی جے پی کیلئے انتخابی موضوع رہا اور سپریم کورٹ فیصلے کے بعد مندر کی ہوئی ۔ عدالت کی ہدایت پر حکومت کی نگرانی میں ٹرسٹ تشکیل دیا گیا تھا اس لیے حکومت اس میں اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی ۔ انہوںنے الزام لگایا کہ رام مندر میں چڑھاوا چوری سے پہلے زمین گھوٹالے کے الزامات لگے تھے اور اب کروڑوں روپے کے چڑھاوا چوری کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں چھوٹے ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا لیکن پورے واقعہ کی جوابدہی طئے کیے بغیر اعلیٰ سطح پر بیٹھے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مندر چڑھاوا چوری میں ان چھوٹے ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں ٹرسٹ کے ذریعے ہی رکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی ملازمین تھے جن کی لسٹ خود ٹرسٹ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو دی تھی اور بینک نے ایجنسی کے ذریعے انہیں کام پر لگایا تھا۔ ٹرسٹ نے اپنی مرضی کے لوگوں کو اسٹیٹ بینک اور ایجنسی کے ذریعے وہاں کام پر لگایا۔ ان کی نہ کوئی جانچ ہوئی اور نہ ہی ان کے بیک گراؤنڈ کی پڑتال کی گئی۔ ایسے میں چڑھاوا چوری کے بعد ان ملازمین کی تو جانچ کی گئی لیکن بڑے لوگوں کو چھوڑ دیا گیا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ رام مندر میں چندہ چوری کا بڑا مہا پاپ ہوا لیکن حیرت ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس پر خاموش ہیں۔ کروڑوں روپے کے چڑھاوا چوری کے باوجود ای ڈی، محکمہ انکم ٹیکس اور سی بی آئی جیسی مرکزی ایجنسیاں سرگرم نظر نہیں آ رہی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی اور آر ایس ایس اس معاملے سے خود کو الگ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے اور سچ سامنے لایا جانا ضروری ہے کیونکہ رام بھکت پورے معاملے کی سچائی جاننا چاہتے ہیں۔

















