کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نیلگیری کے گڈالور میں ایک اسکول کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کے لیے منگل کو تمل ناڈو پہنچے۔ اس دوران انہوں نے طلبہ سے بات چیت کی اور ان کے سوالوں کا جواب بھی دیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہم روزانہ آئی ٹی انقلاب، اے آئی اور ڈیٹا جیسے الفاظ سنتے ہیں۔ ہم یہ بھی سنتے ہیں کہ یہ معلومات کا دور ہے، ایک ایسا دور جہاں معلومات آسانی سے دستیاب اور قابل رسائی ہے۔
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تعلیمی اداروں کا کام ایسے لوگوں کو تیار کرنا ہے جو معلومات کو پرکھ سکیں، اس کو علم میں تبدیل کر سکیں۔ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ وہ دانشمندی سے کام لیں، کیونکہ اگر معلومات کے اس دور میں ہمارے پاس سمجھدارنی نہیں ہے اور ہم معلومات کے بہاؤ میں بہہ جاتے ہیں تو دنیا ایسی جگہ بن جائے گی جسے پسند کرنا مشکل ہوگا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ صرف تعلیمی نظام ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ بدلنا ہوگا۔ ہم نے آئی ٹی سیکٹر میں کافی اچھا کیا ہے۔ آپ نے سافٹ ویئر انجنیئرنگ، انفوسس میں ہماری تمام کامیابیوں کے بارے میں سنا ہوگا لیکن اب یہ انڈسٹری مشکل میں پڑنے والی ہے، اس کی اصل وجہ اے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم سروس سیکٹر میں پیچھے نہ رہیں جہاں ہم بہتر کر رہے ہیں، لیکن اب ہمیں مینیوفیکچرنگ سیکٹر بنانا ہوگا۔ آج چین نے مینیوفیکچرنگ پر قبضہ کر لیا ہے، ہم جو بھی چیزیں استعمال کرتے ہیں وہ چین میں بنتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہندوستان میں تیارہ ہوں، ایسا کرنے کے لیے ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔


















