نئی دہلی :’وقف ترمیمی بل‘ لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا سے بھی پاس ہو گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں 3 اپریل کی دوپہر اس بل پر بحث شروع ہوئی تھی، اور 12 گھنٹے سے بھی زیادہ بحث کے بعد 3 اپریل کی دیر رات اس پر ووٹنگ ہوئی۔ اس بل کی حمایت میں 128 ووٹ پڑے، جبکہ خلاف میں 95 ووٹ ڈالے گئے۔ لوک سبھا میں اس بل کی حمایت میں 288 اور خلاف میں 232 ووٹ پڑے تھے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وقف ترمیمی بل پر راجیہ سبھا میں ہو رہی بحث کا حصہ بنتے ہوئے برسراقتدار طبقہ کو پُرزور انداز میں ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لیے ہر چیز میں آپ ہاتھ ڈال رہے ہیں، یہ اچھا نہیں ہے۔ آپ جھگڑے کا بیج ڈال رہے ہیں۔ آپ ان کو دبانے کی کوشش کریں گے تو آپ کو ہی پیدا مسائل سلجھانے پڑیں گے۔‘‘ کھڑگے نے مرکزی وزیر داخلہ سے گزارش کی کہ وہ اسے انا کا مسئلہ نہ بنائیں، کیونکہ مسلمانوں کے لیے یہ بل مناسب نہیں ہے، اور ساتھ ہی آئین کے خلاف بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ خیر سگالی کے ماحول کو قائم رکھنے کی کوشش کیجیے، ختم کرنے کی نہیں۔
راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل پر جاری بحث کا حصہ بنتے ہوئے بی آر ایس رکن پارلیمنٹ کے آر سریش ریڈی نے حکومت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کو اصلاح کی ضرورت لگی تو ریاستوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں آپ کی نیت پر شک ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’درگاہوں پر میں جاتا رہتا ہوں، 55 فیصد ہندو جاتے ہیں اور منتیں مانگتے ہیں۔ آپ آج یہ بل لائے ہیں کہ غیر مسلم وقف کو عطیہ نہیں کر سکتے، تو آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ تبدیلیٔ مذہب کو فروغ دینا چاہتے ہیں، یا درگاہوں پر جانے سے غیر مسلموں کو روکنا چاہتے ہیں؟‘‘ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’درگاہ پر بڑے بڑے لوگ جاتے ہیں، اڈانی جی بھی جاتے ہیں۔ یہ بل ملک کے سیکولر تانے بانے کے خلاف ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ بل واپس لے لیں۔ سیکولرزم یہاں شہید ہو رہا ہے۔ ہم بل کی مخالفت کرتے ہیں۔‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے وقف بل کو آئین مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’آئین کہتا ہے ملک میں سبھی برابر ہیں۔ سبھی کو اپنے مذہبی کاموں کے لیے مندر، مسجد، گرودوارہ کی تعمیر اور رکھ رکھاؤ کا حق ہے۔ اقلیتی امور کے وزیر جھوٹ بولتے ہیں، ملک کو وہ گمراہ کر رہے ہیں۔ یہ ’امید‘ نہیں ہے۔ وقف سے متعلق جھوٹی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’وقف ٹریبونل کو ایسا بتایا جاتا ہے جیسے مذہبی کھاپ پنچایت ہو۔ اس میں بھی تو حکومت کے مقرر کردہ جج ہوتے ہیں۔ وقف بورڈ خود اپنی جائیدادوں کے لیے مقدمات لڑ رہا ہے۔‘‘ انھوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ہماری عبادت گاہوں کو ہم سے نہ چھینا جائے، کیونکہ اس بل سے پریشانیاں بڑھ جائیں گی۔
کانگریس راجیہ سبھا رکن ابھشیک منو سنگھوی نے بل پر بحث کے دوران کہا کہ یہ جو بل ہے، وہ قانون نہیں، قانونی زبان میں اقتدار کی منمانی ہے۔ انھوں نے رتیلال کیس اور تلکایت گووند جی مہاراج کے کیس کی مثال پیش کی اور کہا کہ کلاؤز 11 میں ریاستی حکومت کی طرف سے 100 فیصد نامزد اراکین کی سہولت ہے۔ کیا آزادی بچی، کیا مذہب کے لوگوں کا اپنے اراکین چننے کے حقوق بچے؟ لکھا ہے کہ 11 میں سے 3 مسلمان ہونے چاہئیں۔ اسے دوسری طرح پڑھیں تو 8 غیر مسلم ہو سکتے ہیں۔ وقف کونسل میں غنیمت ہے کہ 22 میں سے کم از کم 12 مسلمان ہونے چاہئیں۔
راجیہ سبھا میں وقف بل پر اپنی بات رکھتے ہوئے جے ایم ایم رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سرفراز احمد نے کہا کہ میں اس بل کی حمایت بالکل بھی نہیں کروں گا۔ وقف بورڈ میں ترمیم کرنے سے مسلمانوں کا بھلا نہیں ہونے والا، مسلمانوں کا بھلا ان کی تعلیم، روزگار کے انتظام کرنے سے ہوگا۔ سرفراز احمد نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’مسلمانوں کو آپ کی نیت پر شبہ ہے۔ آپ نے جو بلڈوزر چلایا ہے، اس کے بعد سے آپ پر بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ وقف بورڈ کسی کی زمین خود جا کر نہیں لیتا ہے، عطیہ کرنے والے کی خواہش ہوگی تبھی وقف بورڈ اسے قبول کرے گا۔‘‘
شیوسینا (یو بی ٹی) سے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے وقف ترمیمی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کو (بی جے پی) مسلمانوں کے مفاد کی اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے۔ اتنی فکر تو بیرسٹر محمد علی جناح نے بھی نہیں کی تھی۔ وزیر محترم کو سن کر ایسا لگا جیسے محمد علی جناح کی روح قبر سے اٹھ کر داخل کر گئی ہے۔ ہندو راشٹر بنانے کی بات کرنے والے لوگ تھے، اب لگ رہا ہے کہ ہندو پاکستان بنانے جا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جو بل لائے ہیں، اس کا مقصد صاف نہیں ہے۔ ابھی تو آپ میٹھی میٹھی باتیں کر رہے ہو، لیکن آپ تاجر لوگ ہو۔ تاجر لوگ ایسا ہی کرتے ہیں اور پھر سب کچھ فروخت کر کے بھاگ جاتے ہیں۔ یہ بل ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ آپ پھر ملک میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں، فساد بھڑکانا چاہتے ہیں۔
راجیہ سبھا میں وقف بل پر اپنی بات رکھتے ہوئے عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ ’’حکومت لوگوں کی مائی باپ ہوتی ہے۔ والدین کی طرح لوگوں کا خیال رکھتی ہے، لیکن یہ حکومت لوگوں (مسلمانوں) کے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ غیر آئینی بل ہے۔ یہ حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ یہ قانون مسلمانوں کے بھلے کے لیے لا رہی ہے، لیکن آپ کی طرف سے یہ کہنا زیب نہیں دیتا۔ ایسا اس لیے کیونکہ پوری حکومت میں ایک بھی مسلمان وزیر نہیں ہے، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کا بھلا کر رہے ہیں۔