مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور ایران سے جڑے تنازعہ کے باعث دنیا بھر میں خام تیل اور ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے ’جیٹ فیول مانیٹر‘ کے مطابق اس خطہ میں جیٹ فیول کی قیمتیں 85 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ چونکہ اے ٹی ایف (ایویشن ٹربائن فیول) ایئر لائنز کے لیے سب سے بڑا آپریٹنگ خرچ ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت بڑھنے کا براہ راست اثر ایئر لائنز کی لاگت پر پڑتا ہے۔
بہرحال، انڈیگو نے بتایا کہ نیا فیول چارج ہر سیکٹر (یعنی سفر کے حصہ) کے حساب سے لیا جائے گا اور یہ فاصلے کے مطابق مختلف ہوگا۔ جو جانکاری دی گئی ہے، اس کے مطابق فیول سرچارج کچھ اس طرح ہوگا:
- گھریلو پروازیں اور ہندوستانی برصغیر: 425 روپے
- مشرق وسطیٰ: 900 روپے
- جنوب مشرقی ایشیا اور چین: 1800 روپے
- افریقہ اور مغربی ایشیا: 1800 روپے
- یورپ: 2300 روپے
انڈیگو کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا پورا اثر ٹکٹوں پر ڈال دیا جائے تو بنیادی کرایوں میں کافی اضافہ کرنا پڑے گا۔ فی الحال کمپنی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسافروں پر اچانک زیادہ بوجھ نہ پڑے، اس لیے محدود فیول سرچارج ہی لگایا جائے۔
















