امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو اسے "مکمل تباہی” سے دوچار کر دیا جائے گا۔ لیکن اس دعوے کے چند گھنٹے بعد ہی امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات کی خبر سامنے آئی ہے۔
منگل کو یو این جی اے میں شرکت کرنے والے ٹرمپ نے ذاتی طور پر اعلان کیا کہ امریکی حکام اور ایرانی نمائندوں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔ امریکی حکام اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر امریکہ کی طرف سے ملاقات میں موجود تھے۔ اس ملاقات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ "اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر نے ایران ڈیل پر ثالثوں سے ملاقات کی۔ بہت سی چیزیں بہت اچھی طرح سے کام کر رہی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، "یہ ملاقات بہت اچھی رہی۔
ادھر ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ملاقات امریکی نمائندےا سٹیو وٹ کوف کی درخواست پر ہوئی اور اس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی شرکت کی۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ملاقات کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر سخت شرائط عائد کیں۔ ان شرائط میں بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر اٹھانا، منجمد ایرانی فنڈز کا فوری اجراء اور تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل تھا۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب اس کے پاس دو راستے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، "مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے، کیا ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ ہوگا جس سے انہیں ایک عظیم قوم کے طور پر دوبارہ کھڑے ہونے کا موقع ملے، یا میں فوری طور پر اسلامی جمہوریہ کو تباہ کردوں تاکہ وہ دوبارہ کبھی لوگوں اور ملکوں کو تباہ نہ کرسکے۔


















