برکس سربراہی اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے امن کی اپیل کی۔ انہوں نے ایسے تنازعات کو روکنے کی اپیل کی جن کا اثر خاص طور پر گلوبل ساؤتھ پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’غزہ سے لے کر پورے مشرق وسطیٰ، یوکرین، سوڈان اور دیگر تنازعات سے متاثرہ علاقوں تک دنیا کو امن کی ضرورت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جامع عالمی ترقی کی راہ امن سے ہی ہو کر گزرتی ہے۔
اجلاس میں مغربی ایشیا کے تنازعہ سے متعلق کئی رہنما بھی موجود تھے۔ ان میں ایک طرف ایران کے صدر مسعود پیزشکیان تھے، جبکہ دوسری طرف ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود شامل تھے۔ اس کے علاوہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن بھی اجلاس میں موجود تھے۔ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد دنیا بھر میں غذائی اجناس اور کھاد کی فراہمی کو لے کر بحران پیدا ہوا تھا۔
انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ ’’تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان ذمہ داریوں میں بین الاقوامی سمندری راستوں پر آمد و رفت کے حقوق اور آزادی کا احترام، ممالک کی خودمختار مساوات، ان کی علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کا احترام، تنازعات کا پرامن حل، نیز بین الاقوامی انسانی اور انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری شامل ہے۔
فروری میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے ہونے والی سمندری آمد و رفت متاثر ہوئی۔ اس سے دنیا میں تیل اور گیس کی اس بڑی سپلائی پر اثر پڑا جو اس راستے سے گزرتی ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد پیٹرولیم اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی ہے۔ انتونیو گوٹیرس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے طے کیے گئے اجلاس کے موضوع کا بھی ذکر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جیسا کہ اس اجلاس کا موضوع درست طور پر بتاتا ہے ہمیں لچک، جدت، تعاون اور پائیدار ترقی کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘ یہ تمام چیزیں جامع عالمی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے امن سب سے اہم شرائط میں سے ایک ہے۔


















