انتظامیہ کی جانب سے جمع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ کا بھی زمین پر کوئی اثرہوتا نظرنہیں آرہا ہے۔ دہلی سے ممبئی تک ریسٹورنٹ کو ایل پی جی بحران کا سامنا ہے۔ کئی ریسٹورنٹ کے باہر’ایل پی جی بحران کی وجہ سے بند‘ کے بورڈ نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران گیس ایجنسی کے ڈیلروں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔
اسی دوران پٹرولیم، جہاز رانی اور امور خارجہ کی وزارتوں نے موجودہ صورتحال پر اپ ڈیٹس کا اشتراک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مرکزی حکومت نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ملک میں ایل پی جی اور دیگر ایندھن کی بلا تعطل سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے حکومت نے اب تک 12,000 چھاپے مارے ہیں، 15,000 سے زیادہ ایل پی جی سلنڈر ضبط کیے ہیں۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے درمیان گجرات کے موربی میں سیرامک انڈسٹری نے منگل کو فیصلہ کیا کہ اس کے تقریباً 430 یونٹس کم از کم اگلے تین ہفتوں تک بند رہیں گے۔ انڈسٹری کے ایک اہلکار نے یہ معلومات دی۔ مغربی ایشیا میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے گیس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ سیرامک انڈسٹری میں پروپین اور قدرتی گیس کا استعمال بھٹیوں کو جلانے اور مصنوعات کو خشک کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس لیے سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے مینوفیکچرنگ ٹھپ ہوگئی ہے۔
موربی سیرامک مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے صدر منوج اروادیہ نے بتایا کہ انڈسٹری سے وابستہ یونٹوں کی ایک خصوصی میٹنگ میں یہ اجتماعی فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروپین گیس پر انحصار کرنے والی یونٹیں بند ہوئیں اور بعد میں قدرتی گیس کا استعمال کرنے والی یونٹوں نے بھی کام روک دیا۔ فی الحال ان یونٹوں نے 10 سے 15 اپریل تک پیداوار بند رکھنے اور اس مدت کے دوران مشینری کی دیکھ بھال کا کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گیس کی نئی سپلائی دستیاب ہونے پر ہی آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔















