لوک گلوکار نیہا سنگھ راٹھور کل یعنی3 جنوری کو حضرت گنج پولیس اسٹیشن پہنچیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرہ کیا تھا۔ اس معاملے میں حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔27اپریل 2025 کو لکھنؤ کے حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور وہ اس معاملے کو لے کر کل پولیس اسٹیشن پہنچیں ۔ نیہا نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے درمیان ایک متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ اس معاملے میں ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے نیہا سنگھ راٹھور کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کی گئی تھی۔
نیہا سنگھ کے شوہر ہمانشو سنگھ نے بتایا کہ انہیں پہلا نوٹس پندرہ دن پہلے ملا تھا۔ نیہا کو اس نوٹس کے ذریعے بلایا گیا تھا، لیکن اس وقت ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس لیے انہوں نے پولیس سے کچھ وقت کی درخواست کی۔انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ہفتہ کو باہر تھے۔ جب وہ واپس آئے تو انہیں یہ نوٹس ملا۔ اس نوٹس میں نیہا کو تین دن کے اندر پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونے کو کہا۔ ہمانشو نے مزید کہا کہ وہ تحقیقات میں تعاون کرنے کے لیے خود آئے ہیں۔ نیہا کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
پولیس اس معاملے میں نیہا سنگھ راٹھور کو پہلے ہی دو نوٹس بھیج چکی ہے۔ ہفتے کے روز، نیہا دورے کے بعد اپنی رہائش گاہ پر واپس آئی اور ان کے گیٹ پر ایک نوٹس نظر آیا ۔ اس کے بعد نیہا اور اس کے شوہر پولیس اسٹیشن گئے۔نیہا سنگھ اس معاملے میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے اپنے شوہر کے ساتھ پہنچیں۔ 5 دسمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔


















