نئی دہلی :’وقف ترمیمی بل 2024‘ آج راجیہ سبھا میں پیش کر دیا گیا۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بل کو ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ سبھی فریقین سے بات چیت کے بعد بل تیار ہوا ہے۔ ایک کروڑ سے زیادہ لوگ نے اس بل سے متعلق اپنے مشورے دیے۔ وقف بل پر بحث کے دوران کرن رجیجو نے راجیہ سبھا میں کہا کہ وقف ملکیت میں لگاتار تنازعہ کی وجہ سے یہ بل ضروری ہے۔ اس بل سے متعلق 284 تنظیموں سے بات چیت کی گئی۔ وقف ملکیت سے متعلق بہت سارے کیسز زیر التوا ہیں۔ ہم اچھی سوچ سے یہ بل لے کر آئے ہیں۔ قانون انصاف کے لیے ہے، لڑائی کے لیے نہیں۔ وقف کا مینجمنٹ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہی ہوگا۔ مسلمانوں کے طور طریقے میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ بورڈ میں شیعہ، سنی، بوہرا سب ہوں گے۔ اپوزیشن کے سبھی الزامات بے بنیاد ہیں۔
وقف ترمیمی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ ناصر حسین نے کہا کہ ’’وقف کے معنی عطیہ کرنا ہے، جو کوئی بھی کسی کو بھی کر سکتا ہے۔ محمد صاحب کے زمانے میں غیر مسلمانوں نے بھی عطیات کیے۔ عطیہ کی روایت ہر مذہب میں ہے۔ ہمارے یہاں عطیہ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے وقف بورڈ بنا۔ اس ملک میں ایس جی پی سی ہے، ٹیمپل ٹرسٹ ہیں، آخر یہ (بی جے پی والے) گمراہی کیوں پھیلا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ انگریزوں کے زمانے میں وقف ایکٹ آیا تھا جس میں اصلاح کرنے کے لیے کئی ترامیم کی گئیں۔ کانگریس کے زمانے مین جو ترامیم ہوئیں، اس میں پورا تعاون اور سپورٹ دیگر پارٹیوں کی بھی تھی۔ وقف بورڈ کے خلاف سب سے بڑی گمراہی یہ پھیلائی گئی ہے کہ وقف بورڈ کسی بھی زمین کو اپنی زمین کہہ دیتا تھا۔ کیا ملک میں ریونیو ریکارڈ نہیں ہے، قانون نہیں ہے، عدالت نہیں ہے؟ ہم ٹرین میں نماز پڑھتے ہیں، تو کیا ٹرین ہماری ہو گئی؟ ناصر حسین نے کہا کہ وقف کو لے کر کیے جا رہے دعوے غلط ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آپ عدالت نہیں جا سکتے، لیکن آپ بالکل جا سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ ہے، سپریم کورٹ ہے، آپ وہاں جا سکتے ہیں۔