نئی دہلی:لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر ووٹنگ کا عمل انجام پا گیا ہے۔ اس بل کی حمایت میں 288 ووٹ پڑے ہیں، جبکہ مخالفت میں 232 ہی ووٹ پڑ سکے۔ اس طرح لوک سبھا سے وقف ترمیمی بل پاس ہو گیا ہے۔ اب اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ اگر وہاں سے بھی یہ بل پاس ہو گیا تو پھر قانون کی شکل اختیار کرنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔
آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے لوک سبھا میں وقف بل کی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 25، 26 کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وقف بل مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بل پر بحث میں بولتے ہوئے اویسی نے اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کو ذلیل کرنا ہے۔ یہ بیان دینے کے بعد اوسیی نے بل پھاڑتے ہوئے کہا کہ ’’میں گاندھی کی طرح وقف بل کو پھاڑتا ہوں۔
بارہمولہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ انجینئر عبدالرشید شیخ نے وقف ترمیمی بل پر حکومت کے خلاف اپنی بات لوک سبھا میں رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں وقف بل کے خلاف کھڑا ہوں۔ مجھے 3 بڑی باتیں ملک کی سب سے بڑی پارٹی بی جے پی اور کانگریس سے پوچھنی ہے۔ مجھے کسی سے دشمنی نہیں۔ مجھے دوستوں نے بھی مارا، دشمنوں نے بھی مارا۔ بی جے پی کھل کر مسلمانوں کو ان کی اوقات یاد دلاتی ہے، یہ سچائی ہے۔‘
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے لوک سبھا میں کہا کہ ’’یاد رکھنا، یہ بل اتنا خطرناک ہے جو سارے سماج کو توڑنے کا کام کر رہا ہے۔ بہار اور خاص طور سے آندھرا پردیش کی عوام آپ کی ساتھی پارٹیوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اگر وہ لوگ اس بل پر آپ کا ساتھ دیتے ہیں تو انھیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
وقف ترمیمی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شرومنی اکالی دل کی رکن پارلیمنٹ ہرسمرت کور بادل نے مودی حکومت کو بری طرح نشانے پر لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو پارٹی مسلم مخالفت کی سیاست کرتی آئی ہے، ان کو کون سا عید کا چاند نظر آ گیا۔ زبان پر دعا ہے لیکن دل تو ان کا کالا ہے۔‘‘ حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آپ کی منشا صرف مسلمانوں کی زمین اور ان کے پیسوں پر قبضہ کرنے کی ہے۔ آپ ہندوؤں کو ڈرا کر سیاست کرنا چاہ رہے ہیں۔ ٹکڑے ٹکڑے گینگ تو آپ ہیں۔‘