بھدوہی: اتر پردیش کے بھدوہی میں زچگی کے لیے اسپتال پہنچنے والی 20 سالہ خاتون کو علاج اور داخلہ نہ ملنے کے بعد سڑک کنارے بچے کو جنم دینا پڑا۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز برتا گیا۔ معاملے کی تحقیقات کے بعد محکمہ صحت نے کارروائی کرتے ہوئے ڈیوٹی پر تعینات ایک کنٹریکٹ ڈاکٹر کی سروس ختم کر دی، جبکہ ایک اسٹاف نرس کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ بھدوہی کے مہاراجہ چیت سنگھ ضلع اسپتال سے متعلق ہے۔ خاتون کے اہل خانہ کے مطابق وہ منگل کی رات تقریباً 10 بجے اسے زچگی کے لیے اسپتال لے کر پہنچے تھے۔ خاتون کی والدہ نے بتایا کہ انہوں نے اسپتال کے عملے سے اپنی بیٹی کا معائنہ کرنے اور زچگی کے لیے داخل کرنے کی درخواست کی، لیکن انہیں کہا گیا کہ اسپتال میں ’ونواسی‘ برادری کی خواتین کی ڈلیوری نہیں کرائی جاتی۔
خاتون کی والدہ کے مطابق انہیں اسپتال سے باہر جانے کو کہا گیا۔ اس کے بعد وہ اپنی بیٹی کو لے کر بازار کی طرف جا رہی تھیں کہ راستے میں سڑک کنارے ہی اس نے بچے کو جنم دے دیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد جب معاملہ سامنے آیا اور ہنگامہ شروع ہوا تو انتظامیہ نے فوری طور پر خاتون کو ضلع اسپتال میں داخل کیا۔
خاتون نے بھی بتایا کہ اسپتال پہنچنے پر وہاں موجود خاتون ڈاکٹر نے اس کی ڈلیوری کرانے سے انکار کیا اور اسے بی ایچ یو جانے کو کہا۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ڈیوٹی پر تعینات کنٹریکٹ ڈاکٹر ڈاکٹر پنکج کمار کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹاف نرس نیلم موریہ کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔
بھدوہی کے چیف میڈیکل آفیسر سنتوش چک نے میڈیا کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے بعد ایمرجنسی میں تعینات ڈاکٹر کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گائناکولوجی ماہر ڈاکٹر کی تنخواہ روکنے کے ساتھ اسٹاف نرس کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔
چیف میڈیکل آفیسر کے مطابق ضلع اسپتال کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ خاتون ڈاکٹر کے خلاف بھی کارروائی کے لیے حکومت کو خط بھیجا گیا ہے۔ حکام نے معاملے میں مبینہ غفلت کے حوالے سے دیگر پہلوؤں کی بھی جانچ کی ہے۔


















