سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے بیٹے آبان احمد سمیت 2 افراد کی سڑک حادثے میں موت ہو گئی، جبکہ 3 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق آبان احمد اپنے بھائی علی احمد سے ملنے پریاگ راج سے جھانسی جیل جا رہے تھے۔ جھانسی کے تھانہ پونچھ علاقے میں ہائی وے پر ان کی کار ڈیوائڈر سے ٹکرا گئی اور دردنک حادثہ ہو گیا۔ واضح رہے کہ علی احمد کو پریاگ راج کے نینی جیل سے یکم اکتوبر 2025 کو جھانسی جیل شفٹ کر دیا گیا تھا تبھی سے وہ یہیں بند ہے۔
کار میں پریاگ راج کے پھٹوا کے رہنے والے 28 سالہ احزم ولد محمد فاروق، 30 سالہ محمد زید ولد جاوید احمد، 24 سالہ عمر ولد ارشد، آبان احمد ولد عتیق احمد اور سونو خان سوار تھے۔ اسی دوران راستے میں تھانہ پونچھ علاقے کے کھلّی گاؤں کے پاس ہائی وے پر تیز رفتار کار بے قابو ہو کر ڈیوائڈر سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار کا اگلا حصہ مکمل طور سے تباہ ہو گیا۔ حادثے میں عتیق احمد کے بیٹے آبان اور سونو خان کی موت ہو گئی ہے، دیگر 3 لوگوں کو نازک حالت میں جھانسی میڈیکل کالج بھیجا گیا ہے۔ موقع پر پہنچی پولیس آگے کی کارروائی میں مصروف ہو گئی ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق عتیق احمد کے ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ یہ حادثہ جانور کو بچانے کے باعث پیش آیا۔ سامنے اچانگ آ گئے جانور سے بچنے کی وجہ سے کار ڈیوائڈر سے ٹکرا گئی۔ قابل ذکر ہے کہ عتیق احمد کے 5 بیٹے تھے، جس میں سے اسد کو اپریل 2023 میں پولیس نے انکاؤنٹر میں مار گرایا تھا۔ 2 بیٹے ابھی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ دوسری جانب علی احمد فی الحال جیل میں بند ہیں۔ علی احمد کو یکم اکتوبر 2025 کو پریاگ راج واقع نینی جیل سے جھانسی جیل شفٹ کیا گیا تھا۔

















