جھارکھنڈ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں خواتین نے گھرکی چہار دیواریوں سے باہر نکل کرسیاسی میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ کئی خواتین نے مرد سیاستدانوں کو شکست دے کراقتدار تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ الیکشن جیتنے والی کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے پہلی بارانتخابی میدان میں قسمت آزمائی کی اور شاندار کامیابی حاصل کی۔
ریاست کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی کارکردگی ہر طرف موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کامیاب ہونے والی خواتین میں روشنی کھلکھو رانچی کی میئر بنی ہیں، جب کہ سدھا گپتا نے مانگو فتح کیا ہے۔ کوئلہ راجدھانی دھنباد سمیت پوری ریاست میں وارڈ کونسلروں سے لے کر چرکنڈا نگر پنچایت تک خواتین کی جیت نے مافیا پر لگانے کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔ خواتین کی طاقت کا یہ مظاہرہ پورے ملک کے لیے مثال بتایا جارہا ہے۔
پی ایم مودی پر مبینہ امریکی دباؤ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے امریکہ سے کہا ہے کہ آپ جس سے تیل خریدنے کو کہیں گے، اس سے ہی ہم تیل خریدیں گے۔ ہندوستان کا کوئی بھی وزیر اعظم ایسا نہیں کرتا۔ میں آپ کو لکھ کر دے سکتا ہوں کہ نریندر مودی بھی یہ کام نہیں کرتے۔ اس لیے میرا سوال ہے، آخر اس دن ایسا کیا ہوا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کا سارا ڈاٹا امریکہ کو سونپ دیا؟ ہمارے ملک اور کسانوں کا ڈیتھ وارنٹ سائن کر دیا؟‘‘ پنجاب کے کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’پنجاب کے کسانوں کو یاد رکھنا ہے کہ نریندر مودی نے پہلے سیاہ زرعی قوانین لا کر آپ کو بیچنے کی کوشش کی۔ اب یہاں کے مزدوروں کے ہاتھ سے منریگا اور ان کے کام کے حق کو چھین لیا ہے۔ میں صرف یہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ملک کے کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔














