اجین کے ابدال پورہ علاقے میں شاہی مسجد کے ایک حصے کو توڑنے کی کارروائی کو لے کر ہنگامہ برپا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ شدید مخالفت کے درمیان اب مسلم معاشرے کا مختلف موقف ہے۔ ایک گروپ خود ہی مسجد کے حصے کو ہٹانے کے لیے تیار ہے، جبکہ دوسرا گروپ مخالفت کر رہا ہے۔ گزشتہ 2 دنوں سے شاہی مسجد کو منہدم کیے جانے کی خبروں کے بعد مقامی لوگ اور مسلم سماج کے افراد بڑی تعداد میں مسجد کے باہر جمع ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔
اتوار کی رات جب پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ جے سی بی اور پوکلینڈ مشینیں موقع پر پہنچیں تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔ احتجاجی مظاہرے میں خواتین بھی نظر آئیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے موقع پر تقریباً 2000 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے اور مسجد کے 500 میٹر کے دائرے میں بیریکیڈنگ کرکے آمد و رفت مکمل طور پر روک دی ہے۔
پولیس اور انتظامی عہدیداروں کے سمجھانے کے بعد بھیڑ پرسکون ہوگئی تھی۔ پوری رات جاری کشیدگی کے بعد امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ پیر کی صبح اتفاق رائے سے مسجد کا متنازعہ حصہ توڑ دیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور پیر کے روز بھی احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ اس دوران ناراض مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھر بازی کی، جس کے جواب میں پولیس اہلکاروں نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے۔
سنہستھ تہوار کے پیش نظر کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک تقریباً 900 میٹر لمبی سڑک کو 15 میٹر چوڑا کیا جانا ہے۔ اس دائرے میں مجموعی طور پر 7 مذہبی مقامات آرہے تھے، جن میں زیادہ تر کو آپسی اتفاق رائے سے ہٹایا جا چکا ہے۔ حالانکہ کھڑے ہنومان مندر سے لے کر گوپال مندر تک کے حصے میں ایک مزار، کھڑے ہنومان مندر اور شاہی مسجد کو لے کر حالات کافی سنگین ہیں۔ اس معاملے میں قانونی جنگ بھی جاری ہے، شاہی مسجد کو بچانے کے لیے ایک مسلم گروپ اندور ہائی کورٹ بھی پہنچ چکا ہے۔ اس معاملے پر عدالت میں پیر کے روز ہی سماعت ہونے والی ہے۔

















