نیٹ پیپر لیک معاملہ پر سماعت کے دوران آج سپریم کورٹ نے نظامِ امتحان اور ’نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی‘ (این ٹی اے) کی تیاریوں کو لے کر اہم تبصرہ کیا۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی بنچ نے اپنا سخت رخ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ این ٹی اے کے دفتر کا دورہ کر سکتی ہے۔ اس دوران یہ دیکھا جائے گا کہ امتحان کے انعقاد کے لیے تیار کیا گیا نظام زمینی سطح پر کس طرح کام کر رہا ہے اور امتحان سے متعلق انتظامات کافی ہیں یا نہیں۔
سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ این ٹی اے کے دفتر کا دورہ کر نظامِ امتحان سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس دوران امتحان کے انعقاد کے لیے بنائے گئے نظام کی حقیقی صورت حال دیکھی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جائے گی کہ امتحان کرانے کے لیے این ٹی اے کے پاس کافی عملہ اور دیگر ضروری انتظامات موجود ہیں یا نہیں۔ عدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ ہائی پاورڈ کمیٹی کی سفارشات صرف رپورٹ تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ ان سفارشات کو حقیقی طور پر نافذ کیا جانا چاہیے، تاکہ نظامِ امتحان میں ضروری اصلاحات زمینی سطح پر نظر آئیں۔
سپریم کورٹ نے این ٹی اے کو اپنے کام کاج اور نظامِ امتحان میں کی جانے والی اصلاحات کی پیش رفت سے متعلق معلومات اپنی ویب سائٹ پر دستیاب کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس سے عام لوگ بھی دیکھ سکیں گے کہ نظامِ امتحان میں بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور ان پر کس حد تک عمل ہوا ہے۔ عدالت کی ان ہدایات کا مقصد نظامِ امتحان کو زیادہ منظم اور قابل اعتماد بنانا اور ہائی پاورڈ کمیٹی کی سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

















