سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملک کا کاروباری طبقہ خوشحال نہیں ہوگا، ہندوستان ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چھوٹے کاروبار اور چھوٹی صنعتیں ملکی معیشت کی بنیاد ہیں، اس لیے ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔
آگرہ میں ’ویژن انڈیا (پی ڈی اے)‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ وہ یہاں اس مقصد سے آئے ہیں تاکہ چھوٹے کاروباریوں کی مشکلات کو قریب سے سمجھ سکیں اور ان سے تجاویز حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستان کو نئی سمت دینی ہے تو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ چھوٹے کاروبار مشکلات کا شکار کیوں ہیں اور انہیں درپیش مسائل کا مؤثر حل کیا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کا راستہ کاروباری طبقے کی خوشحالی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر چھوٹے تاجر اور صنعت کار مضبوط ہوں گے تو روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں سے وابستہ کاروباریوں کی ضروریات اور مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ان کی درجہ بندی کرکے ان کے حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ بہتر پالیسیاں بنائی جا سکیں۔
اکھلیش یادو نے اپنی حکومت کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2012 سے 2017 کے درمیان اتر پردیش میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام انجام دیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آگرہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی ترقی کے لیے کئی اہم منصوبے شروع کیے گئے جن کے نتائج آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے آگرہ-لکھنؤ ایکسپریس وے، میٹرو ریل اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مالی وسائل کا انتظام آسان نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود ریاستی حکومت نے اپنے وسائل سے ایکسپریس وے کی تعمیر مکمل کی۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ریکارڈ مدت میں مکمل ہوا اور ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’’ویژن انڈیا‘‘ مہم کا آغاز غازی آباد سے کیا گیا تھا جہاں کسانوں اور زراعت سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب کھیت خوشحال ہوگا تو ملک بھی خوشحال ہوگا، کیونکہ زراعت اور چھوٹے کاروبار ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔


















