مدھیہ پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ میں مذہبی تقاریب کے دوران کشیدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ تینوں مقامات پر انتظامیہ نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے حالات کو قابو میں رکھا اور عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور کی تحصیل سیہورا کے وارڈ نمبر پانچ آزاد چوک علاقے میں جمعرات کو مندر میں آرتی اور قریبی مسجد میں نماز تقریباً ایک ہی وقت پر ادا کی جا رہی تھی کہ اسی دوران کسی بات پر تنازع شروع ہوا جو ہاتھا پائی اور پتھراؤ تک جا پہنچا۔ اطلاع ملتے ہی ضلع ہیڈکوارٹر سے اضافی پولیس فورس روانہ کی گئی۔
سیہورا تھانہ پولیس کے ساتھ دیگر تھانوں کا عملہ بھی موقع پر پہنچا اور علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ کلکٹر راگھویندر سنگھ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سمپت اپادھیائے نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس کے مطابق کسی مذہبی مقام کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے۔
کرناٹک کے ضلع بگل کوٹ میں شیواجی جینتی جلوس کے دوران ایک مسجد کے سامنے سے گزرنے پر تنازع پیدا ہوا۔ بعض ہندو تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ مسجد کی سمت سے پتھر پھینکا گیا۔ پولیس نے دونوں جانب جمع ہجوم کو منتشر کر کے حالات کو قابو میں کر لیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اور امن برقرار ہے۔
ادھر حیدرآباد کے علاقے امبرپیٹ میں جامع مسجد کے قریب شیواجی جینتی جلوس اور رمضان کی نماز کے دوران ہلکی کشیدگی دیکھی گئی۔ جلوس میں تیز موسیقی اور نعرے بازی پر دونوں فریقوں کے درمیان تکرار ہوئی، تاہم پولیس کی فوری مداخلت سے صورتحال جلد معمول پر آ گئی۔ کسی نقصان یا تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔ تینوں مقامات پر پولیس نے افواہوں سے گریز کرنے اور بھائی چارہ قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔


















